BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 August, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان رائٹ کی’انڈین سمرز‘

جان رائٹ ان دنوں انڈیا کے دورے پر ہیں
انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ جان رائٹ کی نئی کتاب ’انڈین سمرز‘ کے آج کل بڑے چرچے ہیں۔ رائٹ نے اپنی کتاب میں انڈین ٹیم کے انتخاب کے طریقۂ کار پر بعض متنازعہ باتیں کہی ہیں جن کے سبب وہ خود بھی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

’انڈین سمرز‘ اسی ہفتے نیوزی لینڈ میں ریلیز ہوئی ہے۔ اپنی کتاب میں رائٹ نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے اپنے پانچ برسوں کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ ابھی یہ کتاب انڈیا نہیں پہنچی ہے لیکن کرکٹ کی دنیا میں اس پر زور شور سے تبصرے ہورہے ہیں۔

جان رائٹ نے ٹیم کے انتخاب کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انڈیا میں سلیکٹرز ٹیم کی مجموعی بہتری پر توجہ نہ دیکر علاقائیت پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ رائٹ ان دنو ں انڈیا کے دورے پر ہیں اورچند روز پہلے انہوں نے اپنی رائے کا دفاع بھی کیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے انتخاب میں کوچ کا ووٹ نہیں ہوتا اس لیے اسے کم اہمیت دی جاتی ہے۔

 میں اس بات سے متفق ہوں کہ ٹیم میں علاقائیت یا اپنے اپنے زون کے کھلاڑیوں کو لانے کی رسم پوری طرح سے ختم ہونی چاہیے۔
سید کرمانی
سلیکشن کمیٹی کے سابق چیئرمین سید کرمانی رائٹ کی بات سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر سلیکٹرز اپنے علاقے کے کھلاڑیوں کو ترجیح دیتے ہیں اور جان رائٹ نے اسی کے متعلق اپنی کتاب میں اشارہ کیا ہے۔ کرمانی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا: ’میں اس بات سے متفق ہوں کہ ٹیم میں علاقائیت یا اپنے اپنے زون کے کھلاڑیوں کو لانے کی رسم پوری طرح سے ختم ہونی چاہیے۔‘

کرمانی کا کہنا ہے کہ جان رائٹ نے صحیح باتیں کہیں ہیں اور ہر حال میں صلاحیت کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔

کرکٹ بورڈ کے سابق صدر راج سنگھ ڈنگرپور کا کہنا ہے کہ جان رائٹ نے ان باتوں کے اظہار میں کچھ زیادہ ہی دیر کردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ جس علاقے کی ٹیم میں نمائندگی بہت کم ہو تو اس علاقے کا سلیکٹر اس بات پر زور دیتا تھا کہ اس کے زون کا کھلاڑی شامل کرلیا جائے اور یہ ایک دو کھلاڑی کی بات ہوتی تھی۔ ’اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ چھ سات کھلاڑی تو میں اسے یوں نہیں مانتا اور آج کل تو یہ بالکل بھی نہیں ہوتا ہے۔‘

ڈنگر پور خود ایک سلیکٹر رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب اس طرح کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انتخاب کا عمل اب بہت بہتر ہوگیا ہے۔

 ہمارے دور میں ٹیم کے انتخاب کے عمل میں کوچ جان رائٹ اور کپتان گنگولی سے مشورہ ضرور لیا جاتا تھا۔
چندرو بورڈے
جان رائٹ نے کہا ہے کہ سات نمبر سے گیارہویں نمبر کے کھلاڑی کے انتخاب میں صلاحیت کا خیال کم رکھا جاتا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے ایک اور سابق چیئرمین چندرو بورڈے کہتے ہیں کہ ان کی منتخب کی گئی ٹیم پر جان رائٹ نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ ’ہمارے دور میں ٹیم کے انتخاب کے عمل میں کوچ جان رائٹ اور کپتان گنگولی سے مشورہ ضرور لیا جاتا تھا۔‘

بورڈے کا کہنا تھا کہ کوچ صرف پندرہ کھلاڑیوں کو جاتنا ہے اور سلیکٹرز کو ملک کے سبھی کھلاڑیوں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے۔

انڈین کرکٹ ٹیم آج کل سری لنکا دورے کے لیے فوجی نوعیت کی مشقوں میں مصروف ہے اور جہاں یہ ب بحث گرم ہے کہ کیا کرکٹ کھلاڑیوں کو فوجی کمانڈوز کی ٹریننگ سے کوئی فائدہ پہنچےگا یا نہیں وہیں جان رائٹ کی کتاب بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد