جان رائٹ کی’انڈین سمرز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ جان رائٹ کی نئی کتاب ’انڈین سمرز‘ کے آج کل بڑے چرچے ہیں۔ رائٹ نے اپنی کتاب میں انڈین ٹیم کے انتخاب کے طریقۂ کار پر بعض متنازعہ باتیں کہی ہیں جن کے سبب وہ خود بھی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ’انڈین سمرز‘ اسی ہفتے نیوزی لینڈ میں ریلیز ہوئی ہے۔ اپنی کتاب میں رائٹ نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے اپنے پانچ برسوں کے تجربات قلم بند کیے ہیں۔ ابھی یہ کتاب انڈیا نہیں پہنچی ہے لیکن کرکٹ کی دنیا میں اس پر زور شور سے تبصرے ہورہے ہیں۔ جان رائٹ نے ٹیم کے انتخاب کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انڈیا میں سلیکٹرز ٹیم کی مجموعی بہتری پر توجہ نہ دیکر علاقائیت پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ رائٹ ان دنو ں انڈیا کے دورے پر ہیں اورچند روز پہلے انہوں نے اپنی رائے کا دفاع بھی کیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے انتخاب میں کوچ کا ووٹ نہیں ہوتا اس لیے اسے کم اہمیت دی جاتی ہے۔ کرمانی کا کہنا ہے کہ جان رائٹ نے صحیح باتیں کہیں ہیں اور ہر حال میں صلاحیت کو فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ کرکٹ بورڈ کے سابق صدر راج سنگھ ڈنگرپور کا کہنا ہے کہ جان رائٹ نے ان باتوں کے اظہار میں کچھ زیادہ ہی دیر کردی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ جس علاقے کی ٹیم میں نمائندگی بہت کم ہو تو اس علاقے کا سلیکٹر اس بات پر زور دیتا تھا کہ اس کے زون کا کھلاڑی شامل کرلیا جائے اور یہ ایک دو کھلاڑی کی بات ہوتی تھی۔ ’اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ چھ سات کھلاڑی تو میں اسے یوں نہیں مانتا اور آج کل تو یہ بالکل بھی نہیں ہوتا ہے۔‘ ڈنگر پور خود ایک سلیکٹر رہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب اس طرح کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انتخاب کا عمل اب بہت بہتر ہوگیا ہے۔ بورڈے کا کہنا تھا کہ کوچ صرف پندرہ کھلاڑیوں کو جاتنا ہے اور سلیکٹرز کو ملک کے سبھی کھلاڑیوں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے۔ انڈین کرکٹ ٹیم آج کل سری لنکا دورے کے لیے فوجی نوعیت کی مشقوں میں مصروف ہے اور جہاں یہ ب بحث گرم ہے کہ کیا کرکٹ کھلاڑیوں کو فوجی کمانڈوز کی ٹریننگ سے کوئی فائدہ پہنچےگا یا نہیں وہیں جان رائٹ کی کتاب بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ | اسی بارے میں اب جونز بھارتی کوچ کی دوڑ میں 26 April, 2005 | کھیل سٹیو وا کے بھارتی کوچ، ٹام موڈی13 May, 2005 | کھیل چیپل اورگنگولی میں وقتی سمجھوتہ 27 September, 2005 | کھیل سوروگنگولی بھارتی ٹیم سے باہر14 December, 2005 | کھیل گانگولی کرکٹ نہ چھوڑیں: گواسکر26 February, 2006 | کھیل ’میرے خلاف میل کس نےافشا کی‘ 22 July, 2006 | کھیل ’وسیم کےبارے میں رپورٹ کی تردید‘19 November, 2003 | کھیل سچن عظیم کھلاڑی ہیں:انضمام14 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||