چیپل اورگنگولی میں وقتی سمجھوتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کرکٹ بورڈ گریگ چیپل اور کپتان سوروگنگولی کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کو دبا دیا گیا ہے۔ ہندوستان کرکٹ بورڈ کی ایک اہم میٹنگ میں بورڈ کے عہدیداروں اور سلیکٹرز کے زبردست دباؤ کے بعد کوچ گریگ چیپل اور ٹیم کے کپتان سورو گنگولی کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کو دبا دیا گیا ہے۔ ممبئی میں ایک میٹنگ کے بعد کرکٹ بورڈ یعنی بی سی سی آئی کے صدر رنبیر سنگھ مہندرا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں ہی اپنے اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور کپتان ، کوچ اور کھلاڑیوں کے لیے کارکرکردگی ہی ٹیم میں رہنے کا واحد معیار رہے گا۔ " سبھی مل کر کام کریں گے اور اس تنازعہ کے بارے میں کوئی بھی کھلاڑی ، کوچ یا بورڈ کا کوئی بھی عہدے دار میڈيا سے بات نہیں کرے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر انکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔" مسٹر مہندرا نے صرف اتنا کہا کہ گنگولی پر جو یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے زمبابوے کے دورے میں کئی بار چوٹ لگنے کا بہانہ بنایا تھا وہ دراصل رابطے کی کمی اور غلط فہمی کا نتیجہ تھا ۔ گزشتہ ہفتے گریگ چیپل نے کرکٹ بورڈ کے صدر کو ای میل کے ذریعے ایک طویل خط لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ گنگولی ٹیم کی قیادت کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر فٹ نہیں ہیں۔ اور ان کا رویہ بھی ٹیم کے لئے ناموزوں ہے بظاہر بورڈ میں موجود گنگولی کے حامیوں نے اس خط کو پریس کو افشا کر دیا ۔ کوچ اور گانگلولی کا یہ تنازعہ ہندوستان میں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران بن گیا تھا ۔ گانگلولی نے کوچ کے الزامات کا جواب دینے سے قبل بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سابق صدر جگموہن ڈالمیا سے صلاح و مشورہ کیا تھا اور کپتان اور کوچ دونوں نے ہی آج بورڈ کے ارکان کے سامنے اپنی اپنی دلیلیں پیش کیں۔ ڈالمیا گزشتہ کئی دنوں سے چیپل اور گنگولی کے درمیان کسی سمجھوتے کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ گنگولی کافی دنوں سے فارم میں نہیں ہیں۔ وہ ہندوستان کے اب تک کے سب سے کامیاب کیپٹن رہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں بیشتر شائقین کی حمایت بظاہر چیپل کو مل رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت گنگولی کو فوراً نہ ہٹا کر سری لنکا یا جنوبی افریقہ دورے کے بعد وقار کے ساتھ کیپٹن کے عہدے سے دستبردار ہونے کا موقع دیا گیا ہے۔ مسٹر مہندرا نے کہا " ملک میں کرکٹ کے مفاد میں یہی بہتر ہے کہ اس سلسلے میں میڈیا سے کوئی بات نہ کی جائے اور اس معاملے کو بے جا طور پر طول نہ دیا جائے ۔ لیکن کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈ کے آج کے فیصلے سے گانگولی کو راحت ضرور مل گئي ہے لیکن وہ وقار کے ساتھ تاریخ میں جانے کا راستہ اب کھو چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||