صدر کا انتخاب، حکمِ امتناعی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کلکتہ ہائی کورٹ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر کے انتخاب کے لیے ہونے والے جنرل باڈی اجلاس کا انعقاد روک دیا ہے۔ بورڈ کی ہر برس ایک جنرل باڈی میٹنگ ہوتی ہے جس میں صدر کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہ اجلاس بائیس ستمبر کو کلکتہ میں ہونا تھا لیکن کلکتہ ہائی کورٹ نے اس کے انعقاد پر حکمِ امتناعی جاری کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے جب تک اس معاملے میں مکمل سماعت نہیں ہوجاتی یہ اجلاس نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے اس انتخاب کو باقاعدہ انجام تک پہنچانے کے لیے مبّصر بھی متعین کیے ہیں۔ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر کے انتخاب پر پورے بھارت کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ اس عہدے کے لیے ایک بار پھرموجودہ صدر رنبیر سنگھ مہندرا میدان میں ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مرکزی وزیر زراعت شرد پوار نے آنے کا اشارہ دیا ہے۔ شرد پوار مراٹھا لیڈر نیشنلسٹ کانگریس کے صدر ہیں جبکہ رنبیر سنگھ مہندرا کا تعلق کانگریس سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ انتخاب ملک کی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ کرکٹ برصغیر میں عوام کا پسندیدہ ترین کھیل ہے اور ہندوستان میں کرکٹ بورڈ کے صدر کا عہدہ بڑی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ برس شرد پوار سابق صدر جگموہن ڈالمیا کے امیدوار رنبیر سنگھ مہندرا سے صرف ایک ووٹ سے ہار گئے تھے۔ مسٹر پوار جیسےسیاست دان کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا تھا۔
شرد پوار نے اس بار میدان میں آنے سے قبل سونیا گاندھی سے ملاقات کی ہے اور کشمیر کے سابق وزیراعلٰی فاروق عبداللہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اگر چہ خود پوارنے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ وہ اس انتخاب میں امیدوار ہیں لیکن مسٹر عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ شمالی زون کی طرف سے مسٹر پوار کی حمایت کرتے ہیں۔ شرد پوارکی کوشش ہوگی کہ وہ گزشتہ انتخاب میں اپنی ہار کا بدلہ لیں اور ان کے دوبارہ میدان میں آنے سے یہ انتخاب بہت دل چسپ موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ پوار کے مخالف جگموہن ڈالمیا کا کیمپ ہے جس کے زیادہ ترحامی کانگریسی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مسٹر پوار سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد مطمئن ہیں اور ممکن ہے کہ وہ بازی لے جائیں لیکن اب یہ لڑائی عدالت میں پہنچ چکی ہے۔ کولکتہ ہائی کورٹ میں راجستھان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک عرضی میں کہا گيا ہے کہ بورڈ کے انتخاب کے لیے ایک آزاد مبصرمقرر کیا جائے تاکہ انتخاب منصفانہ ہو۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ قدم پوار کیمپ کا ہے کیونکہ گزشتہ برس ووٹنگ میں دھاندلی ہوئی تھی لیکن مسٹر ڈالمیا نے ان معاملات کو عدالت لے جانے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||