’بس یہ ہے میرا عراق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’روضے تے رو شبیر آکھے میں ملک عراق نوں وینداں آں‘ کئي سال قبل کسی محرم کی شام پنجابی میں سنا ہوا یہ نوحہ مجھے تب یاد آ آگیا جب میں نے عراق میں پھنسے ہوئے ایک پاکستانی شہری اور سکھر کے باسی کی بپتا بی بی سی پر سنی(اور جنگ اور خانہ جنگي میں پھنس کر رہ گۓ پاکستانیوں پر ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ کا رویہ ساحر کی نظم ’مادام‘ یاد دلاتا تھا کہ ’آپ بے وجہ سی پریشاں کیوں ہیں مادام‘۔ عراق سے پاکستانیوں کا تعلق کافی پرانا ہے- اور اب بھی جب کربلا اور عراق کی ساری کتھا کہانی کی شکل ہی تبدیل اور کئی ہزار گنا زیادہ ہولناک ہوکر رہ گئی ہے۔ کئی پاکستانی بچوں کے نام اس عراقی ڈکٹیٹر پر اب بھی ہیں جسے انکے والدین اپنا ’ہیرو‘ سمجھتے ہیں۔ ’عراق اور ایران کے بیچ اتنا فاصلہ ہے جتنا گدو بندر اور کوٹری کے درمیاں اور دونوں کے درمیاں بس شط العرب ہے دریائے سندھ کی طرح‘ بزرگ سید پریل شاہ ایران عراق جنگ کے دنوں میں بی بی سی کی خبریں سن کر کہا کرتے۔ کئي سالوں سے سیاہ پوش رہنے والے سید پریل شاہ اپنی جوانی کے دنوں میں گھر سے ناراض ہو کر کئی سال تک عراق کربلا چلے گۓ تھے۔ سید پریل شاہ کبھی خمینی کے حامی نہیں رہے تھے۔ وہ ہمیشہ اٹھتی لہر کے مخالف تیراکی کرتے تھے۔ وہ خمینی پر بھی ’تبرا‘ کیا کرتے۔ یہ ایران عراق جنگ کے دن تھے اور پاکستان میں شیعہ اجتماعات میں لعن طعن میں جن گنی چنی شخصیات کا نام برملا لیا جاتا تھا ان میں اضافہ صدام حسین اور خفیہ طور ضیاءالحق کا بھی تھا۔ منیر نیازی کی شاعری، مظہر الاسلام کے افسانے اور سندھ کے تمام چاروں اور ایک جیسے پت جھڑ جیسے موسم اور دنیا جہان کا درد میری نسل کا اوڑھنا بچھونا ہوتے تھے: ’خمینی تو جلتی سگریٹ کی طرح ہے جو تاريخ کی ایش ٹرے میں راکھ بن کر گر پڑے گا،‘ تب میرے شاعر دوست حسن درس نے لکھا تھا- وہی دن تھے جب عراق نے کویت پر مداخلت کی اور وہاں بھی لوگوں پر جنوں طاری ہوگیا۔ لوگوں نے اپنے پیدا ہونے والے بچوں کے نام صدام حسین رکھنا شروع کر دیے۔ ’عرب شکاریوں کی کلائي پر بیٹھا ہوا شکرا دنیا میں امن کی آنکھیں نکالنے کے لیے بے چین ہے،‘ راقم الحروف نے اپنی ایک نظم میں صدام حسین کے لیے لکھا تھا۔
نجانے کس نے دجیل میں اس پر حملہ کیا اور صدام نےتمام جنوبی شیعوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بالکل ایسے جیسے مشرف نے مری بلوچوں کے ساتھ کیا ہے۔ لیکن اس خطے کی تاریخ میں دیر بھی ہے اور اندھیر بھی، اور کتنی حیرت ناک مماثلتیں بھی! کیا اب وہاں شورش و سارا کشت و خون ختم ہوجا ئےگا۔ مجھے یہاں کئی دن پہلے ایک عراقی سے کیے ہوئے میرے اس سوال میں اس کی گفتگو یاد آگئي: اس نے کہا’شورش اس سے پہلے عراق میں تھی کہاں! عراق کی پوری تاریخ میں شورش کبھی نہیں رہی۔ شورش اس ’مداخلت‘ کے بعد ہوئی ہے۔ شورش تو ’ان ویزن‘ کے پہلے ایک سال تک بھی نہیں تھی۔ اب دیکھو! عراق میں خانہ جنگی ہے، شیعہ سنی ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ شیعہ شیعہ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ اب مجھے خوف ہے کہ جنوبی عراق کے شیعہ اور ایرانی شیعہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگيں گے۔گو کہ میں نہ مسلمان ہوں اور نہ عیسائي اور کرد عربوں کو‘۔ اس نے پھر کہا: ’صدام حسین کی حکومت میں عراق میں کم از کم یہ قتل و غارت گری تو نہیں تھی! کسی کو کسی سے مذہب پر نفرت کرنے اور خون خرابہ کرنے کی اجازت تو نہیں تھی۔ کوئی تمہارے در پر دستک دیکر تمہیں اٹھا لیجا کر تمہارا سر قلم تو نہیں کر سکتا تھا۔ صدام کو ایسی باتوں سے نفرت تھی، اسے زرقاوی جیسوں سے بھی نفرت ہوتی۔ وہ صرف اپنے سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے درپے تھا لیکن تب عراق میں ایک قانون تھا، امن تھا‘۔ میرے ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا ’میں نے کب کہا وہ اچھا آدمی تھا! وہ ڈکٹیٹر تھا۔ ظاہر ہے کہ ڈکٹٹیٹر کے جانے پر لوگ خوش ہوتے ہیں- ایک عراقی کی حیثیت سے میں بھی خوش ہوا تھا۔ خاص طور پر اس کے دونوں ظالم بیٹوں کی موت پر تو عراقی ناچ رہے تھے۔ بالکل ایسے اگر آج کیوبا میں جا کر امریکہ کاسترو کا تختہ الٹے تو کیوبن خوش ہونگے لیکن وہاں جا کر ان کے بیٹھ جانے سے کوئی خوش نہیں ہوگا۔ کمپیوٹر کے پیشے سے وابستہ اس عراقی جس نے اپنا نام سام بتایا تھا نے کہا ’میں لندن میں رہ رہا تھا جب عراق میں امریکی مداخلت ہوئی اور پھر صدام حسین حکومت کا خاتمہ ہوا۔ لوگ سڑکوں پر نکل کر اس کے مجسمے گرانے لگے۔ لوگوں نے رقص کیے، میں بھی خوش ہوا۔ ميں نے اپنے بھائی کو عراق ٹیلیفون کیا کہ میں اب وطن واپس لوٹ رہا ہوں لیکن کچھ دنوں بعد بھائی نے کہا: ’مت آؤ ہم خود عراق سے نکلنا چاہتے ہیں‘۔ میں نے دیکھا ہر طرف لوٹ مار لگی تھی۔ لوگ تاريخی ورثے اور میوزم لوٹ کر، تاراج کر کے جار رہے تھے۔ یہ سب کچھ پہلے کبھی ہوا عراق میں! نہیں کبھی نہیں‘۔ پھر وہ اپنے تمباکو کی تھیلی سے رولنگ پیپر کی سگریٹ بنا کر اور اسےسلگاتے ہوئے کہنے لگا۔ ’دل روتا ہے عراق کی آج حالت دیکھ کر۔ پہلے عراقی ایران،عراق جنگ میں مارے گئے اور اب تک پچاس سے ساٹھ لاکھ عراقی دنیا کے مختلف ملکوں میں دربدر ہیں۔ میں مانتا ہوں پہلے بھی عراقی مہاجر بن کر دنیا میں جاتے تھے صدام کے دنوں میں لیکن اب وہاں کشت و خون ختم ہوتے دور دور تک دکھائي نہیں دے رہا، نہیں دے رہا۔ یہ ہے میرا عراق‘۔ اس نے کہا۔ |
اسی بارے میں کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟31 December, 2006 | آس پاس عراق: 2007 افراتفری میں اضافے کا سال31 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||