کیا صدام ذاتی عناد کا نشانہ بنے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تختہ دار پر پہنچنے کے بعد جب صدام حسین غیر معمولی طور پر بڑے پھانسی کے پھندے کو دیکھ رہے تھے تو انہیں اس مقام پر لا کھڑا کرنے والا شخص ٹیکسز (امریکہ) میں اپنی ذاتی جاگیر پر گہری نیند کے مزے لے رہا تھا۔ رات کے ابھی نو ہی بجے تھے، لیکن جارج بش یہ کہہ کر سو چکے تھے کہ انہیں صبح سے پہلے ہر گز نہ اٹھایا جائے۔ اس لاتعلقی کے ساتھ نیند کی آغوش میں چلے جانا اس شخص کی آخری دفعہ تحقیر کرنے کے مترادف تھا جو خود کو صلاح الدین ثانی، عربوں کا نجات دہندہ اور شیر بغداد کہتا تھا۔ کچھ لو گوں کا شاید خیال ہو کہ بش ان دنوں گہری نیند نہیں سو سکتے جب ان کی حمایت انتہائی کم ہو چکی ہے اور عراق میں ان کی حکمت عملی جمود کا شکار ہے۔ لیکن جب پوری دنیا میں تبصرے ہو رہے تھے اور حمایت یا مذمت کی جا رہی تھی، بش سو رہے تھے۔ وہ اپنے معمول کے مطابق تقریباً صبح پونے پانچ بجے ہی بیدار ہوئے۔ ایک گھنٹہ بعد انہوں نے نیشنل سکیورٹی پر اپنے مشیر سٹیفن ہیڈلے کے ساتھ دس منٹ کی ملاقات کی اور اس کے بھی کچھ دیر بعد پہلے سے تیار ایک بیان جاری کیا گیا: ’ایک غیر جانبدار عدالتی کارروائی کے بعد آج صدام حسین کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ انہیں اس انصاف کا سامنا کرنا پڑا، جس سے انہوں نے اپنے ظالمانہ دور میں اپنے مخالفین کو محروم رکھا‘۔
ایک حوالے سے دیکھا جائے تو صدام حسین کی موت ٹیکسز کے بش خاندان اور تکریت کے حسین خاندان کے درمیان ڈرامائی ’دشمنی‘ کا نقطۂِ انتہا تھی۔ تعلق جو بگڑ گیا دشمنی کی یہ داستان خاموشی سے پروان چڑھنے والے تعلقات سے شروع ہوتی ہے۔ جارج بش (سینئر) امریکہ کے نائب صدر تھے اور صدام حسین ایران کے ساتھ دشمنی رکھنے کی وجہ سے ایک اتحادی۔ انیس سو تراسی میں ڈونلڈ رمز فیلڈ نے اس وقت کے صدر ریگن کے خصوصی ایلچی کے طور عراقی صدر صدام حسین سے ملاقات کی اور ایران کے خلاف جنگ میں امریکی مدد کی پیشکش کی۔ یہ تعلق اس وقت دشمنی میں بدل گیا جب صدام حسین نے کویت پر چڑھائی کر دی اور صدر بش (سینئر) نے انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے مغربی اور عرب ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی اتحاد بنایا۔ صدام کو ’بغداد کا قصائی‘ کہا گیا اور جواب میں صدام نے بش سینئر کو ’زہریلا سانپ‘ اور بش جونیئر کو ’زہریلے سانپ کا بیٹا‘ کہا۔ اسی دوران بغداد کے مشہور ’الرشید ہوٹل‘ کی دہلیز کے فرش میں صدر بش (سینئر) کا موزیک (شیشے اور پتھر کے رنگ برنگے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائی جانے والی تصویر) میں بنا خاکہ جڑ دیا گیا۔ ہوٹل میں آنے جانے والے لوگ صدر بش کی تصویر پر پاؤں مارتے ہوئے چلتے۔
دو سال بعد صدام حسین نے مبینہ طور پر صدر بش (سینئر) کو قتل کرانے کی کوشش کی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ہمیشہ دعویٰ کیا ہے کہ عراق پر حملے کا ذاتی عناد سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن ستمبر دو ہزار دو میں جب جنگ کی تیاریاں کی جا رہی تھیں تو بش جونیئر نے ہوسٹن میں چندہ جمع کرنے کی ایک مہم کے دوران صدام حسین کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہ وہی شخص ہے جس نے میرے ڈیڈی کو قتل کرنے کی کوشش کی‘۔ دشمنی کی تلخ داستان کے ذاتی پہلو کا تو (صدام کی موت کے بعد) خاتمہ ہو گیا ہے، لیکن صدام حسین اپنی قبر سے بھی بش انتظامیہ کا پیچھا کرے گا۔ صدام نے ہمیشہ کہا تھا کہ وہ امریکیوں کو ورغلا کر عراق کے شہروں میں لے آئیں گے جہاں انہیں مزاحمت اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ صدام کے اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود بھی امریکہ کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ | اسی بارے میں صدام حسین آبائی قصبے میں سپردِ خاک31 December, 2006 | آس پاس زندگی کے آخری لمحات میں کیا ہوا30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: سوانحی خاکہ30 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس شکاری کے ڈرائنگ روم کی ٹرافی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||