صدام حسین: سوانحی خاکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین نے زندگی کا آخری سانس تیس دسمبر سنہ دو ہزار چھ، سنیچر کی صبح تختۂ دار پر لیا۔ زندگی کے پہلے سانس کی تاریخ کا تو تعین نہیں البتہ سنہ انیس سو سینتیس تھا جب وہ وسطی عراق کے علاقے تِکریت میں پیدا ہوئے۔ انہتّر برس پر محیط صدام کی زندگی ہنگامہ خیزی سے عبارت تھی۔ وہ دو عشروں سے زیادہ عراق کے صدر رہے۔ ان کے متشدد اور غیرمصالحانہ طرز حکومت کی وجہ سے عراق عالمی سیاسی نقشہ پر نمایاں حیثیت کا حامل رہا۔ سوتیلے باپ کے سائے میں پروش پانے والے بچے کے طور پر صدام حسین نے سفاکی اور جبر کا سبق بچپن ہی میں سیکھ لیا تھا۔ جوانی میں وہ بعث پارٹی سے وابستہ ہوگئے اور انیس سو چھپن میں جنرل عبدالکریم قاسم کے خلاف ایک ناکام بغاوت میں حصہ لیا۔
جس ملک کی سیاست کا وطیرہ تشدد ہو، وہاں باپ کے تشدد سے کندن بن جانے والے صدام کے لیے ’ترقی‘ کرنا زیادہ مشکل نہ تھا۔ اپنے ساتھیوں کے درمیان وہ فوراً ہی ممتاز ہوتے چلے گئے۔ انیس سو انسٹھ میں صدام کو عراق سے فرار ہوکر قاہرہ میں پناہ لینا پڑی۔ وہ چار سال بعد عراق لوٹے اور بعث پارٹی کے اندر تیزی سے ترقی پائی۔ یہاں تک کہ بعث پارٹی نے سنہ انیس سو اڑسٹھ میں عبدالرحمان محمد عارف سے اقتدار چھین لیا اور صدام حسین، جنرل احمد حسن البکر کے بعد دوسرے لیڈر بن کر ابھرے۔ صدام حسین نے سن اناسی میں بکر کو خاموشی کے ساتھ اقتدار سے الگ کردیا اور خود ایک مطلق العنان حکمران بن گئے۔ انہوں نے وزارت عظمی، ری وُلوشنری کمانڈ کونسل کے چیئرمین اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے عہدے اپنے پاس رکھے۔ ایران میں سنہ انیس سو اناسی میں امریکہ مخالف اسلامی انقلاب آنے کے بعد صدام حسین نے سنہ اسّی میں ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ جنگِ خلیج آٹھ سال تک جاری رہی جس میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
اس جنگ میں صدام حسین کو امریکہ کی خاموش حمایت حاصل رہی اور صدام حسین کی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ ہی وہ زمانہ تھا جب سنہ بیاسی میں دجیل میں ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد وہاں ایک سو اڑتالیس شیعوں کا قتل عام ہوا۔ (جس کی پاداش میں بالآخر صدام حسین کو پانچ نومبر دو ہزار چھ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جس کے ٹھیک پچپن روز بعد تیس دسمبر کو انہیں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔) ان پر لگائے گیے الزامات اور جرائم کی فہرست میں مارچ سنہ انیس سو اٹھاسی میں حلبجہ میں پانچ ہزار کردوں کو زہریلی گیس سے ہلاک کرنا بھی شامل ہے۔ اگست سنہ انیس سو نوے میں صدام نے کویت پر چڑھائی کرکے اسے عراق میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی فوج نے آپریشن ڈیزرٹ سٹارم کرکے جنوری اکانوے میں کویت پر سے عراقی قبضہ ختم کر دیا۔ کویت سے انخلاء کے بعد صدام نے ملک کے شمال اور جنوب میں ناکام بغاوتوں کو بری طرح سے کچلا۔ بعد میں انہیں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے معاہدہ کرنا پڑا۔ جنگ خلیج کے بعد عراقی حکومت کے اندر اختلاف شروع ہوگئے۔ صدام حسین کے دو داماد ملک سے فرار ہوگئے۔ جب انہیں راضی کرکے وطن لایا گیا تو وہ قتل کردیے گئے۔ امریکہ میں جب صدر بش نے دوہزار کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو عراق میں حکومت تبدیل کرنے کی بات عام ہونے لگیں۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد عراق کو ’سرکش ریاست‘ قرار دیدیا گیا۔ امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی حکومتوں نے دعوٰی کیا کے صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار حاصل کر رہے ہیں جو خطے میں مغربی مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔ لہذا اتحادی فوج نے مارچ دو ہزار تین میں عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت ختم کردی۔
بعد میں انہیں وہاں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا کوئی ثبوت ہاتھ نہیں آیا۔ صدام کے دو بیٹے اودئے اور قصیے جو روپوش تھے، بائیس جولائی کو موصل میں امریکی فوج کے چھاپے کے دوران مارے گیے۔ دسمبر دوہزار تین میں امریکی حکام نے صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ تیس جون دو ہزار چار کو انہیں عراقی حکام کے حوالے کر دیا گیا جس کے بعد ان پر دجیل میں قتل عام کے مقدمہ سماعت شروع کر دی گئی۔ پانچ نومبر دو ہزار چھ کو انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔پچیس دسمبر کو سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی۔ اور تیس دسمبر کی صبح عراق کے معزول صدر صدام حسین کو تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ | اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس زندگی کے آخری لمحات میں کیا ہوا30 December, 2006 | آس پاس پھانسی پر عالمی رہنماؤں کا ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||