زندگی کے آخری لمحات میں کیا ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو بغداد کا انتہائی محفوظ علاقہ کہلانے والے ’گرین زون‘ کے نواح میں واقع خادمیہ میں قائم جیل کے اندر پھانسی دی گئی۔ اس احاطے کو امریکی ’کیمپ جسٹس‘ یا انصاف کا مقام کہتے ہیں۔ پھانسی کا یہ عمل سنیچر، تیس دسمبر دوہزار چھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح کے پانچ بجکر تیس منٹ سے لیکر پانچ بجکر پنتالیس منٹ، یعنی تقریباً پندرہ منٹ کے اندر انجام پایا۔ اس وقت بغداد نماز فجر کی اذانوں سے گونج رہا تھا۔
پھانسی کے وقت عراقیوں کی ایک چھوٹی جمیعت اس عمل کے مشاہدے کےلیے موجود تھی جن میں عراقی وزیراعظم کا ایک نمائندہ اور ایک سنّی عالم دین بھی شامل تھے۔ صدام حسین کو جب تختۂ دار تک لایا گیا تو اس وقت ان کے ہاتھ میں قرآن مجید کا ایک نسخہ تھا۔ اس عرصے میں وہ بالکل چپ تھے مگر انہوں نے نسخہ ایک شخص کو تھماتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے دوست (جس کا انہوں نے نام لیا) کو دیدیا جائے۔ صدام کو پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا گیا۔ جلاد، جس نے اپنا چہرہ لمبی کالی ٹوپی پہن کر چھپا رکھا تھا، جب صدام حسین کے گلے میں پھندا ڈالنے سے پہلے انہیں ہُڈ یا لمبی کالی ٹوپی پہنانے کے لیے آگے بڑھا تو انہوں نے اسے پہننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ موت سے آنکھیں ملانا چاہتے ہیں۔ موقع پر موجود عراقی اہلکاروں کے مطابق صدام حسین نے تختہ دار پر پہنچ کر نعرہ تکبیر بلند کیا، کلمہ پڑھا اور آواز لگائی ’عراق تا ابد قائم رہے اور فلسطین عربوں کا ہے‘۔ اس کے بعد ان کے پیروں کے نیچے سے تختہ سرکا دیا گیا اور دو عشروں سے زیادہ عراقیوں کے سیاہ و سفید کا مالک رہنے والے معزول صدر صدام حسین کا جسم ان کی گردن کے گرد کسی رسی سے جھولنے لگا۔ صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو بنائی گئی ہے تاکہ اسے ٹیلی ویژن پر نشر کرکے لوگوں کو ان کی موت کے بارے میں باور کروایا جا سکے۔ | اسی بارے میں ’پھانسی کے ردعمل کے لیے تیار رہیں‘30 December, 2006 | آس پاس پھانسی پر عالمی رہنماؤں کا ردِعمل30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: سوانحی خاکہ30 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس شکاری کے ڈرائنگ روم کی ٹرافی30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||