’پھانسی کے ردعمل کے لیے تیار رہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کی پھانسی سے قبل امریکی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تمام امریکی سفارتخانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ پھانسی کے ردعمل کے حوالے سے ضروری تیاریاں کر لیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے سینئر افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ دنیا بھر میں امریکی سفارتخانوں میں بذریعہ ’ڈپلومیٹک کیبل‘ یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ سابق عراقی صدر کی سزا پر عملدرآمد کے بعد ہونے والے ردعمل سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ ادھر عراق میں مزاحمت کاروں کی جانب سے پھانسی کے ردعمل میں حملوں کے خطرے کے پیش ِنظر عراق میں بھی حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس موقع پر کرفیو بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراقی صوبے صلاحدین کے گورنر نے کہا ہے کہ صدام کو پھانسی دیے جانے کی صورت میں وہ تکریت میں چار دن کے لیے کرفیو نافذ کر دیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ بغداد میں بھی کرفیو لگایا جائے گا یا نہیں۔ | اسی بارے میں ’پھانسی دینے کا فیصلہ اٹل‘29 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||