’پھانسی دینے کا فیصلہ اٹل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ معزول صدر صدام حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد میں نہ تو کوئی تاخیر کی جائے گی اور نہ ہی اس پر (رد و بدل کے لیے) دوبارہ غور کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نوری المالکی نے یہ بیان جمعہ کو عراق کے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے دیا ہے۔ اس سے قبل صدام حسین کے وکلاء نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں معزول صدر کی ذاتی استعمال کی اشیاء لے جانے کو کہا گیا ہے۔ صدام حسین کے وکلاء کا یہ بیان ان اطلاعات کے درمیان سامنے آیا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے امریکی فوج نے انہیں عراقی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ تاہم عراقی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے۔ ادھر صدام حسین کے سوتیلے بھائیوں سباوی اور وتبن ابراہیم سے جیل میں ان کی ملاقات بھی کرا دی گئی ہے۔ معزول صدر کے یہ دونوں بھائی بھی جیل میں قید ہیں۔ سزائے موت کے خلاف معزول صدر صدام حسین کی اپیل تین روز قبل مسترد کر دی گئی تھی۔ اپیل مسترد ہونے کی تاریخ سے لیکر چار ہفتوں کے دوران یعنی ستائیس جنوری سے پہلے انہیں کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے۔ انیس سو اسی میں عراق کے علاقے دجیل میں ہونے والی 148 شیعہ افراد کی ہلاکتوں کی پاداش میں معزول صدر صدام حسین کو اس سال پانچ نومبر کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ صدام حسین کے خلاف کردوں کی ’نسل کشی‘ کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔ صدام کے وکلاء کی ٹیم کے سربراہ خلیل الدولیمی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی فوجی حکام نے انہیں کہا ہے کہ وہ صدام کی ذاتی اشیاء وصول کرنے کے لیے کسی شخص کو مقرر کریں یا پھر انہیں کوئی پتہ بتائیں جہاں وہ چیزیں بھیجی جا سکیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی جانب سے اب تک نہ تو اس بات کی تصدیق اور نہ ہی اس بات کی تردیدکی گئی ہے کہ امریکی فوج نے درحقیقت انہیں بغداد کے قریب حکومت کے حوالے کردیا ہے۔ ایک دوسرے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ چند دن قبل صدام نے اپنے خاندان کے افراد سے ملاقات کی ہے۔ تاہم عراق کے نائب وزیر انصاف بشو ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدام حسین کو حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ اس وقت صدام کی حوالگی کا وقت اور مقام ممکنہ بدامنی اور خانہ جنگی سے بچنے کے لیے لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں کیا گیا ہے جو ہو سکتا ہے کہ صرف معزول صدر کے مرنے کے بعد ہی بتایا جائے۔ صدام حسین کے قسمت کے بارے میں اس قسم کی متضاد اطلاعات ان کے وکیل کی اس درخواست کے ایک دن بعد سامنے آئی ہیں جس میں انہوں نے بین الاقوامی برداری سے صدام کو پھانسی دینے کے لیے عراقی حکومت کے حوالے کرنے سے روکنے کی اپیل کی تھی۔ خیل الدولیمی کا کہنا تھا کہ صدام جنگی قیدی ہیں اور انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہیں کیاجانا چاہیے۔ اس سے قبل جیل سے لکھے ایک خط میں صدام نے کہا تھا کہ وہ عراق کے عوام پر قربان ہونے کو تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں جو کرنا ہے کریں: صدام حسین 06 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کی سزائے موت برقرار26 December, 2006 | آس پاس صدام: عراق کے لیے ’قربانی‘ پر تیار27 December, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی: امریکی ہاں،یورپی نہ27 December, 2006 | آس پاس صدام کو ’پھانسی تیس روزمیں‘27 December, 2006 | آس پاس عراق میں3 فوجیوں سمیت 20ہلاک 28 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی کے خلاف اپیل04 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||