عراق میں3 فوجیوں سمیت 20ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم سےکم سترہ شہری اور تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مرکزی بغداد کے ایک پٹرول پمپ پر کار بم دھماکہ ہوا جہاں لوگ تیل کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ اس میں دس لوگ مارے گئے ہیں۔ دوسرے واقعے میں ایک بھیڑ بھاڑ والے بازار میں دو دھماکے ہوئے جس میں سات لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے قبل تشدد کے بعض دیگر واقعات میں تین مزید امریکی فوجی ہلاک اور تین شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔ اتحادی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق بدھ کے روز جنوبی بغداد میں سڑک کے پاس بم پھٹنے سے دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ حادثے کے وقت فوج کا دستہ اس علاقے میں گشت کر رہا تھا۔ تیسرا فوجی مشرقی بغداد میں ایک دھماکے سے ہلاک ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق فوجی عملہ روڈ کلیئر کرنے کے کام میں مصروف تھا تبھی زور دار دھماکہ ہوا۔ ایک دوسرے واقعے میں اہم شعیہ رہنما مقتدی الصدر کے ایک معتمد خاص صاحب الامیری کو امریکی فوج نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ الصدر گروپ کے سیاسی دھڑے نے عراقی حکومت سے اس واقعے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ روز بھی سڑک پر بم دھما کے سے لیتویہ کے دو فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں بھی تین فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ بغداد میں ایک اور کار بم کے دھماکے میں کم سے کم آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اسی دوران بصرہ میں تعینات ایک برطانوی کمانڈر نے کہا ہے کہ برطانوی حکومت فوج کے مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔ میجر جنرل رچرڈ شرف کا کہنا ہے کہ فوجی ایک مشکل ترین مہم کو انجام دے رہے ہیں جس کو جاری رکھنے کے لیے مزید فنڈ اور بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فوجیوں کو بہتر مدد، تریبت اور ان کے لیےاچھے رہن سہن کے انتظام کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں عراق: متعدد دھماکے،66 ہلاک12 March, 2006 | صفحۂ اول ’عراق صورتحال جنگ سے بدتر‘28 February, 2006 | صفحۂ اول عراق میں مزید فوج بھیجی جائے گی16 December, 2006 | صفحۂ اول عراق:چارسال میں 12 ہزار اہلکارہلاک25 December, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||