عراق میں مزید فوج بھیجی جائے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایسا ممکن ہے کہ نئے سال میں عراق میں مزید فوج بھیجی جائے۔ بش انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ عراق میں تشدد روکنے کے لیے بیس سے پچیس ہزار تک اضافی فوج بھیجی جا سکتی ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس لکھتے ہیں کہ اس کے کئی دنوں سے آثار نظر آ رہے تھے کہ صدر بش عراق میں مزید فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اب انتظامیہ کے ایک سینیئر رکن نے کہا ہے کہ پچیس ہزار مزید امریکی فوجی عراق بھیجے جا سکتے ہیں۔ ان کا کام تین قسم کا ہو گا۔ اول بغداد میں سلامتی حاصل کرنے میں مدد دی جائے، دوسرے مغربی عراقی صوبے عنبر میں فوجی کارروائی پھر شروع کی جائے جہاں سنیوں کی جانب سے مزاحمت قابو سے باہر ہے۔ تیسرے فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے جو عراق کو ٹکڑے ٹکڑے کیے جا رہا ہے، مسلح ملیشیا والوں کے خلاف کارروائی میں مدد کی جائے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کے معنی ہیں کہ امریکی فوجی ریڈیکل عالم مقتدیٰ الصدر کے وفادار ملیشیا والوں سے ٹکر لیں گے یا نہیں جوو مشرقی بغداد کے ایک بڑے حصے پر قابو رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ صدر بش جنوری میں ایک تقریر میں اپنے ارادوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔ امریکی اہلکار نے ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ عراق اس تشدد سے چھٹکارا پا سکے گا اور انہیں اندیشہ تھا کہ اس سے پہلے کہ عراق اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے امریکی عوام اور کانگریس کا دباؤ امریکہ کو عراق سے دامن چھڑانے پر مجبور کر دے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ صدر بش کی عراق کے لیے نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے لیے لوگوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ مزید فوجوں کو بھیجنے کے بار میں واشنگٹن میں خاصی بحث آرائی ہوتی رہی ہے ہر چند کہ سینیئر فوجی افسروں نے اس بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے کہ مزید فوج بھیجنے سے کوئی فائدہ ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں استحکام اب صرف سیاسی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ | اسی بارے میں عراق پالیسی میں تاخیر کا دفاع14 December, 2006 | آس پاس بغداد سے درجنوں افراد اغوا14 December, 2006 | آس پاس عراق: دوسرے روز بھی تشدد جاری 13 December, 2006 | آس پاس بغداد: مرنے والوں کی تعداد 7012 December, 2006 | آس پاس ’عراق سٹڈی گروپ رپورٹ نامنظور‘10 December, 2006 | آس پاس فوجی قوت کافی نہیں: رمزفیلڈ09 December, 2006 | آس پاس ’رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں‘09 December, 2006 | آس پاس تجاویز’فروٹ سلاد‘ نہیں: بیکر08 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||