BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام کو پھانسی: امریکی ہاں،یورپی نہ
صدام حسین
بغداد میں صدام حسین کی تصویر والی گھڑیوں کی خفیہ فروخت
عراق کے معزول صدر صدام حسین کی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کیے جانے کے فیصلہ پر ملا جلا رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ نے معزول عراقی صدر کو پھانسی کے فیصلہ کو سراہا ہے جبکہ یورپ نے ایسا کرنے سےمنع کیاہے۔

عراقی اپیل عدالت نے معزول صدر صدام حسین کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد انہیں تیس دن کے اندر کسی بھی روز پھانسی دی جا سکتی ہے۔

صدام حسین کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں ایک عدالت نے پانچ نومبر کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

انہیں انیس سو بیاسی میں دجیل شہر میں ایک سو اڑتالیس افراد کو قتل کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ ہلاک کیے گئے تمام افراد شیعہ تھے اور انہیں وہاں صدام حسین پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد ہلاک کیا گیا تھا۔

موت کا دن
 سزائے دیئے جانے کی مدت تیس روز سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ کل (بدھ) سے سزا پر کسی وقت بھی عمل ہوسکتا ہے۔
جج عارف شاہین
صدام حسین کے وکلاء نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

صدام حسین کے خلاف اس وقت ایک اور مقدمہ بھی زیر سماعت ہے لیکن عراقی قانون کے تحت اس کے باوجود بھی ان کے خلاف سزا کے حکم پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔

ان کے وکیل دفاع خلیل الدولیمی کا کہنا ہے کہ انہیں فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ سو فیصد قائل ہیں کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ تھا۔

اپیل عدالت کے ترجمان رعید جوہی نے بی بی سی کوبتایا کہ صدام حسین کو پھانسی دی جائے گی۔

سیاسی مقدمہ
 ہمیں فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہم سو فیصد قائل ہیں کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ تھا۔
وکیل دفاع
عراقی قانون کے تحت سزائے موت پر تیس روز کے اندر عملدرآمد کیا جانا چاہئے۔ اپیل عدالت نے تین ہفتے کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

اپیل کورٹ کے جج عارف شاہین نے بغداد میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا: ’سزائے دیئے جانے کی مدت تیس روز سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ کل (بدھ) سے سزا پر کسی وقت بھی عمل ہوسکتا ہے۔‘ جج نے کہا ہے کہ اب سزا کے خلاف مزید کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔

کمرۂ عدالت
صدام حسین کے علاوہ سات دوسرے افراد پر بھی مقدمہ چلایا گیا۔
عملدرآمد سے پہلے لازمی ہے کہ عراقی صدر (جلال طالبانی) عدالتی فیصلے کی توثیق کریں۔ جج شاہین نے کہا کہ صدر صدام حسین کی سزا میں تخفیف کے مجاز نہیں ہیں۔

بھارتی حکومت نے صدام حسین کے لیے رحم کی اپیل کرتے ہوئے عراق میں قیام امن میں تاخیر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدام حسین کو سزائے موت دیئے جانے کے وقت اور مقام کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اور شاید دنیا کو ان کی موت کے بارے میں سزا کے بعد ہی پتہ چلے۔

معزول صدر پر اسّی کی دہائی میں کردوں کو ہلاک کرنے کا ایک اور مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

امریکی صدر جارج بش
امریکی صدر جارج بش نے صدام حسین کے لیے سزائے موت کا خیرمقدم کیا تھا۔
دجیل کے قتل عام سے متعلق یہ مقدمہ معزول صدر صدام حسین سمیت آٹھ افراد کے خلاف چلایا گیا۔ صدام حسین، ان کے سوتیلے بھائی بریزان ابراہیم، انقلابی عدالت کے چیف جج عواد حامد البندر کو سزائے موت، سابق عراقی صدر طحٰہ یاسین رمضان کو عمر قید، بعث پارٹی کے اعلی عہدیداروں عبداللہ خادم روئید، عبداللہ راوید مِظہر اور علی دائم علی کو پندرہ پندرہ برس قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ جبکہ بعث پارٹی کے ایک اور عہدیدار محمد عواضوی علی کو بری کر دیا گیا تھا۔

صدام حسین نے عدالت کی حیثیت کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔

مقدمہ کے طریقہ کار پر تنقید کرنے والے کہتے رہے ہیں کہ اس میں امریکہ کی خصوصی دلچسپی نے محض فاتح کا انصاف بنا دیا ہے۔

مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے سے پہلے امریکہ کے ایک سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک کو کمرۂ عدالت سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ انہیں نے جج کو ایک چِٹ تھما دی تھی جس پر لکھا تھا کہ مقدمہ ایک ’مذاق‘ ہے۔

صدام حسین کے وکلاء کئی بار الزام لگا چکے ہیں کہ عراقی حکومت مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ میں حقوق انسانہ کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ بھی اس الزام کی تائید کرتی رہی ہے۔

پانچ نومبر کے فیصلے کے بعد عراق میں بعض مقامات پر خوشی کا اظہار کیا گیا مگر صدام حسین کے آبائی علاقے تکریت میں احتجاجی مظاہر شروع ہوگئے تھے۔

امریکی صدر نے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔ تاہم یورپی یونین نے عراقی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ سزائے موت پر عملدرآمد نہ کروائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد