BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 December, 2006, 01:10 GMT 06:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام کی پھانسی کے خلاف اپیل
صدام پر دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت کا مقدمہ چلایا گیا
معزول عراقی صدر صدام حسین کے وکلاء نے ان کی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

صدام حسین کو دجیل مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 148 افراد کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔


وکلاء نے اپیل مدت کے ختم ہونے سے دو دن پہلے دائر کی ہے۔ پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت نو ججوں پر مشتمل عدالت کرے گی۔

اگر اپیل کورٹ نے صدام حسین کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تو پھر ان کو تیس دنوں کے اندر پھانسی دینا لازمی ہوگا۔

انسانی حقوق کے اداروں نے صدام حسین کو پھانسی کی سزا پر تنقید کی ہے اور ان کا موقف ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی کہہ چکے ہیں کہ ان کے اندازے کے مطابق صدام حسین کو 2006 میں پھانسی پر لٹکا دیا جائےگا۔

صدام حسین کے خلاف ایک اور مقدمے کی سماعت جاری ہے جس میں اگر وہ مجرم قرار پائے تو ان کو پھانسی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں
’اپیل سےروکا جا رہا ہے‘
20 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد