صدام کی پھانسی کے خلاف اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول عراقی صدر صدام حسین کے وکلاء نے ان کی پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ صدام حسین کو دجیل مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 148 افراد کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ وکلاء نے اپیل مدت کے ختم ہونے سے دو دن پہلے دائر کی ہے۔ پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت نو ججوں پر مشتمل عدالت کرے گی۔ اگر اپیل کورٹ نے صدام حسین کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا تو پھر ان کو تیس دنوں کے اندر پھانسی دینا لازمی ہوگا۔ انسانی حقوق کے اداروں نے صدام حسین کو پھانسی کی سزا پر تنقید کی ہے اور ان کا موقف ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی کہہ چکے ہیں کہ ان کے اندازے کے مطابق صدام حسین کو 2006 میں پھانسی پر لٹکا دیا جائےگا۔ صدام حسین کے خلاف ایک اور مقدمے کی سماعت جاری ہے جس میں اگر وہ مجرم قرار پائے تو ان کو پھانسی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’اپیل سےروکا جا رہا ہے‘20 November, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی نہ دیں: مبارک10 November, 2006 | آس پاس یورپی یونین: سزائے موت کی مخالفت06 November, 2006 | آس پاس صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||