BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جو کرنا ہے کریں: صدام حسین
صدام حسین
صدام حسین موت کی سزا کے خلاف اپیل بھی کر رہے ہیں
معزول عراقی صدر صدام حسین نے، اپنے اس انکار کے باوجود کہ وہ آئندہ عدالت میں نہیں آئیں گے، بدھ کے روز کردوں کے قتل عام کے مقدمے کی پیشی پر عدالت آنے کا فیصلہ کر لیا۔

منگل کو انہوں نے کہا تھا کہ وہ چیف جج اور سرکاری وکیلوں کی طرف سے ’مزید بے عزتی‘ نہیں برداشت کر سکتے۔

ان دنوں صدام حسین اور ان کے چھ ساتھیوں پر انیس سو اسّی کے عشرے میں کردوں کے خلاف مہم جوئی کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس مہم میں ایک لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ ان دنوں صدام حسین موت کی سزا کے خلاف اپیل بھی کر رہے ہیں۔

بدھ کو وہ مسکراتے ہوئے عدالت میں داخل ہوئے اور کٹہرے میں بیٹھ کر ایک کُرد میڈیکل ورکر کا بیان سننے لگے جو بتا رہے تھے کہ کس طرح انہوں نے انیس سو ستاسی کے گیس حملوں کے زخمیوں کا علاج کیا۔

یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آخر صدام حسین نے انکار کے بعد دوبارہ عدالت آنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک خط کے ذریعے انہوں نے منگل کو کہا تھا کہ قطع نظر ان کی غیر حاضری کے نتائج کے، وہ آئندہ عدالت میں نہیں آئیں گے۔

انہوں نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ انہیں اس مقدمہ میں دفاع کا خاطر خواہ موقع نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا ’ میں آپ سے کہتا ہوں کہ مجھے اس نئے عدالتی ڈرامے میں شرکت سے معاف رکھا جائے اور آپ لوگوں کو جو بھی کرنا ہے کریں۔‘

صدام حسین اور چھ دوسرے ملزمان کردوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے انکار کرتے ہیں۔

صدام حسین اور ان کے کزن علی حسن المجید پر قتل عام کا الزام بھی ہے۔

’انفال مقدمہ‘ نامی اس کیس میں اب تک ستر گواہوں کے بیانات سنے جا چکے ہیں۔ بدھ کو اس سلسلہ میں آخری گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد توقع ہے کہ جج ان دستاویزات کا مطالعہ کریں گے جو ملزمان اور کردوں کے قتل عام کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہیں۔

اس مقدمہ کے سلسلہ میں صدام حسین اور دیگر ملزمان کا کہنا ہے کہ کردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی دراصل باغیوں کے خلاف کارروائی تھی کیونکہ ایران عراق جنگ کے دوران کچھ کردوں نے دشمن کا ساتھ دیا تھا۔

کوفی عنان’صدام سے بدتر دور‘
عنان: عراقی حالات خانہ جنگی سے بھی برے ہیں
صدام بے سکرپٹ اداکار
بے سلاسل صدام عدالت پر چھائے رہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد