صدام: عراق کے لیے ’قربانی‘ پر تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین نے کہا ہے کہ وہ تختۂ دار پر لٹک کر عراق پر قربان ہونے کو تیار ہیں۔ انہوں نے عراقی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ دشمنوں کے خلاف متحد ہوجائیں۔ جیل میں اپنی کال کوٹھری سے ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کی موت انہیں سچا شہید بنا دے گی۔ پھانسی کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد اب اگلے چار ہفتوں کے اندر انہیں کسی وقت بھی پھانسی دی جا سکتی ہے۔ سابق عراقی صدر کو انیس سو بیاسی میں دجیل کے علاقے میں ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کو قتل کروانے کے الزام میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ قتل عام کا یہ واقعہ دجیل میں ان پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد پیش آیا تھا۔ صدام حسین نے خط میں لکھا ہے وہ اپنی جان کی قربانی دیں گے۔ اور اللہ نے چاہا تو وہ انہیں سچے لوگوں اور شہیدوں میں جگہ دے گا۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ صدام حسین نے مذکورہ خط پانچ نومبر کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد لکھا تھا۔ خط میں، جو ایک ویب سائٹ پر بھی شائع ہوا ہے، سابق صدر نے عراق میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری امریکہ اور ایران پر عائد کی ہے۔ صدام حسین نے لکھا ہے کہ عراق کے دشمن، جنہوں نے عراق پر قبضہ کیا اور ایران، عراقی عوام کے درمیان موجود اتحاد کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اب لوگوں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ صدام کے بقول اب عراقی عوام کو اتحاد ہی غلامی سے بچا سکتا ہے۔ پھانسی کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر امریکہ نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ عراق میں آمریت کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے راستے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ جبکہ حقوق انسانی کی بعض تنظیموں نے مقدمہ کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ صدام حسین پر اسّی کی دہائی میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے الزام میں ایک اور مقدمہ ابھی زیرسماعت ہے۔ | اسی بارے میں صدام کو ’پھانسی تیس روزمیں‘27 December, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی: امریکی ہاں،یورپی نہ27 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کی سزائے موت برقرار26 December, 2006 | آس پاس جو کرنا ہے کریں: صدام حسین 06 December, 2006 | آس پاس ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||