صدام حسین کی سزائے موت برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی اپیل عدالت نے معزول صدر صدام حسین کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔ صدام حسین کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں ایک عدالت نے پانچ نومبر کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ انہیں انیس و بیاسی میں دجیل شہر میں ایک سو اڑتالیس افراد کو قتل کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ ہلاک کیے گئے تمام افراد شیعہ تھے اور انہیں وہاں صدام حسین پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد ہلاک کیا گیا تھا۔
ان کے وکیل دفاع خلیل الدولیمی کا کہنا ہے کہ انہیں فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ سو فیصد قائل ہیں کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ تھا۔ اپیل عدالت کے ترجمان رعید جوہی نے بی بی سی کوبتایا کہ صدام حسین کو پھانسی دی جائے گی۔
اپیل عدالت نے تین ہفتے کی سماعت کے بعد موت کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ اپیل کورٹ کے جج عارف شاہین نے بغداد میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا: ’سزائے دیئے جانے کی مدت تیس روز سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ کل (بدھ) سے سزا پر کسی وقت بھی عمل ہوسکتا ہے۔‘ جج نے کہا ہے کہ اب سزا کے خلاف مزید کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔
بھارتی حکومت نے صدام حسین کے لیے رحم کی اپیل کرتے ہوئے عراق میں قیام امن میں تاخیر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدام حسین کو سزائے موت دیئے جانے کے وقت اور مقام کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اور شاید دنیا کو ان کی موت کے بارے میں سزا کے بعد ہی پتہ چلے۔ معزول صدر پر اسّی کی دہائی میں کردوں کو ہلاک کرنے کا ایک اور مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔
صدام حسین نے عدالت کی حیثیت کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ مقدمہ کے طریقہ کار پر تنقید کرنے والے کہتے رہے ہیں کہ اس میں امریکہ کی خصوصی دلچسپی نے محض فاتح کا انصاف بنا دیا ہے۔ مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے سے پہلے امریکہ کے ایک سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک کو کمرۂ عدالت سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ انہیں نے جج کو ایک چِٹ تھما دی تھی جس پر لکھا تھا کہ مقدمہ ایک ’مذاق‘ ہے۔ صدام حسین کے وکلاء کئی بار الزام لگا چکے ہیں کہ عراقی حکومت مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ میں حقوق انسانہ کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ بھی اس الزام کی تائید کرتی رہی ہے۔ پانچ نومبر کے فیصلے کے بعد عراق میں بعض مقامات پر خوشی کا اظہار کیا گیا مگر صدام حسین کے آبائی علاقے تکریت میں احتجاجی مظاہر شروع ہوگئے تھے۔ امریکی صدر نے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔ تاہم یورپی یونین نے عراقی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ سزائے موت پر عملدرآمد نہ کروائے۔ | اسی بارے میں ’صدام کوپھانسی اسی سال ہو گی‘07 November, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی کے خلاف اپیل04 December, 2006 | آس پاس جو کرنا ہے کریں: صدام حسین 06 December, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی نہ دیں: مبارک10 November, 2006 | آس پاس صدام کے خلاف مقدمات: سوالات 05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||