BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 December, 2006, 22:51 GMT 03:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘
صدام حسین
رپورٹ کے مطابق مقدمے کی کارروائی معیاری نہیں تھی۔
امریکہ میں حقوق انسانی کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے صدام حسین پر چلائےگئے مقدمے میں بہت سی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس مقدمہ کے فیصلہ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے محققین کے مطابق صدام حسین اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ صحیح طریقے سے نہیں چلایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کئی شکایتوں کے باوجود مقدمے کی کارروائی اسی طرح چلتی رہی، مقدمہ کی انتظامیہ کو صحیح طریقے سے تشکیل نہیں دیا گیا تھا اور گواہوں کے حفاظتی اقدامات بھی مناسب نہیں تھے۔

رپورٹ کے مطابق کچھ گواہوں پر دباؤ ڈال کر انہیں گواہی دینے کے لیے مجبور کیا گیا تھا جبکہ ججوں کے’سروں پر یہ تلوار لٹک رہی تھی‘ کہ انہیں بعث پارٹی کا ممبران بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔

مقدمے پر بات کرتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی ’ایک اچانک حملے‘ کی طرح ہے جس میں الزام کی تائید کرنے کے حوالے سے دستاویزات وکیل صفائی نے اس دن تک عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے تھے جب تک انہیں وکیل استغاثہ نے انہیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کر دیا۔

اس کے علاوہ وکیل استغاثہ نے وہ ثبوت بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے جن سے ملزم کی بے گنائی ثابت ہو سکتی تھی۔ اس مقدمے میں اس بات کی بھی خلاف ورزی کی گئی کہ وکیل صفائی کو گواہوں کو چیلنج کرنے کا حق نہیں دیا گیا تھا۔

کیا عراقی حکومت نے اس فیصلے پر نظر انداز ہونے کی کوشش کی؟

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج کے فیصلہ کا تفصیلی جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے وکیل صفائی کی کئی باتوں کو نظر انداز کیا اور یوں لگتا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ صدام مجرم ہیں۔

رپورٹ میں حکومتی وزراء پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے اس مقدمے کا فیصلہ سوچ رکھا تھا اور انہوں نے عدلیہ کو خود مختار بنانے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے۔

رپورٹ میں صدام کے حامی وکلاء پر بھی تنقید کی گئی ہے کہ انہوں نے عدالت کو ایک سیاسی پلیٹ فارم کی طرح استعمال کیا اور کئی بار عدالت سے واک آؤٹ کیا لیکن اس رپورٹ میں ان کو درپیش مسائل کو بھی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقدمے کے دوران صدام کے حامی دو وکلاء کا قتل ہوا اور باقیوں کو بھی مناسب تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ انہیں جو معلومات فراہم کی گئی تھیں وہ پرانی، غیر واضح اور بے ترتیب تھیں اور ان سب باتوں کے نتائج واضح ہیں کہ ’اس مقدمے کا کارروائی کسی بھی جائز کارروائی کے معیار پر پورا نہیں نہیں اترتی‘۔ اس صورتحال میں مقدمے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور’اس کے علاوہ سزائے موت ایک ظالمانہ اور غیر انسانی سزا ہے اور اس طرح کی کارروائی کے بعد بالکل ہی نامناسب ہے‘۔

صدام پر دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت کا مقدمہ چلایا گیا

صدام کے حامی وکلا کی ٹیم کے سربراہ خلیل الدولیمی نے کہا ہے کہ ان کے وکلاء کو اس فیصلے کے بعد گرین زون میں موجود عدالت میں جانے کی اجازت نہیں۔اردن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہماری بارہا درخواستوں کے باوجود عدالت نے ہماری اپیل کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے‘۔ انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ عدالت نے اس طرح کی چالیں استعمال کی ہیں جن کی وجہ سے مناسب طریقے سے اپیل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد