پھانسی کی سزا پر اٹلی کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے وزیراعظم رومانو پروڈی نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ اٹلی کی موت کی سزا کی مخالفت کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے موت کی سزا سنائے جانے کی مذمت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ اس طریقے سے صدام حسین کے جرائم کو کم کرنا چاہتے ہیں یا پھر انہیں سزا سنانے والی عراقی عدالتی کی خودمختاری اور استحقاق کے بارے میں کوئی شک ہے لیکن اس کے باوجود اٹلی موت کی سزا کی مخالفت کرتا ہے۔ اٹلی کے وزیراعظم نے یہ بیان عراقی عدالت کے معزول صدر صدام حسین کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو برقرار رکھنے کے فیصلے کے ایک دن بعد دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایک عدالت نے پانچ نومبر کو صدام حسین کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا انہیں انیس و بیاسی میں دجیل شہر میں ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کو قتل کرنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔ پھانسی کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد اب اگلے چار ہفتوں کے اندر انہیں کسی وقت بھی پھانسی دی جا سکتی ہے۔
اس سے قبل عراق کے معزول صدر صدام حسین نے کہا تھا کہ وہ تختۂ دار پر لٹک کر عراق پر قربان ہونے کو تیار ہیں۔ انہوں نے عراقی عوام پر زور دیا کہ وہ دشمنوں کے خلاف متحد ہوجائیں۔ جیل میں اپنی کال کوٹھری سے لکھے ایک خط میں انہوں نے کہا کہ ان کی موت انہیں سچا شہید بنا دے گی۔ خط میں، جو ایک ویب سائٹ پر بھی شائع ہوا ہے، سابق صدر نے عراق میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری امریکہ اور ایران پر عائد کی ہے۔ صدام حسین نے لکھا ہے کہ عراق کے دشمن، جنہوں نے عراق پر قبضہ کیا اور ایران، عراقی عوام کے درمیان موجود اتحاد کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اب لوگوں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ صدام کے بقول اب عراقی عوام کو اتحاد ہی غلامی سے بچا سکتا ہے۔ پھانسی کے خلاف اپیل مسترد ہونے پر امریکہ نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ عراق میں آمریت کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے راستے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ جبکہ حقوق انسانی کی بعض تنظیموں نے مقدمہ کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ صدام حسین پر اسّی کی دہائی میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے الزام میں ایک اور انفال نامی مقدمہ ابھی زیرِسماعت ہے۔ |
اسی بارے میں صدام: عراق کے لیے ’قربانی‘ پر تیار27 December, 2006 | آس پاس صدام کو ’پھانسی تیس روزمیں‘27 December, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی: امریکی ہاں،یورپی نہ27 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کی سزائے موت برقرار26 December, 2006 | آس پاس جو کرنا ہے کریں: صدام حسین 06 December, 2006 | آس پاس ’عراقی حالات صدام دور سے بدتر ہیں‘04 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||