BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 December, 2006, 04:09 GMT 09:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شکاری کے ڈرائنگ روم کی ٹرافی

صدام حسین
صدام حسین کی سزائے موت مکافاتِ عمل ہے
اس وقت مجھے وہ ویڈیو فلم یاد آ رہی ہے جو صدام حسین کی خواہش پر انیس سو اناسی میں بنی تھی جب انہوں نے ایک خاموش جبری حکمتِ عملی کے تحت اپنےگُرو احمد حسن البکر کو صدارت کے عہدے سے معزول کر کے خود اقتدار سنبھال لیا تھا۔

گیارہ برس کی نائب صدارت کے بعد صدر بنتے ہی صدام حسین نے حکمراں بعث پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ہال کچھا کھچ بھرا ہوا ہے۔نسبتاً جوان، پراعتماد اور تر و تازہ صدام حسین سٹیج پر براجمان ہیں۔ایک کے بعد ایک مقرر ڈائس پر آرھا ہے اور نئے صدر کی عظمت اجاگر کر رہا ہے۔

صدام حسین سگار کے کش لیتے ہوئے ہر مقرر کو توصیفی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر صدام حسین خود ڈائس پر آئے اور گویا پورا ہال ایڑیوں پر کھڑا ہوگیا۔ تالیوں کا ایسا شور جیسے ہال کی چھت گر پڑے گی۔ صدام حسین اپنے مخالفین کو سازشی، پارٹی کے غدار اور احسان فراموش جیسے القابات سے لتاڑ رہے ہیں۔ ان کے ہر دوسرے یا تیسرے جملے پر ہال تالیوں کی آواز سے بھر جاتا ہے۔

 مغربی دنیا کا لاڈلا روشن خیال سیکولر آمر ابلیسیت کا ہار پہن کر ہٹلر اور مسولینی کی صف میں کھڑا کر دیا گیا اور پھر سب کو عراقی عوام پر صدام حسین کے مظالم بھی نظر آنے لگے۔

صدام حسین خطاب کے بعد کرسی پر دوبارہ بیٹھ جاتے ہیں۔ اب ڈائس سے ایک کے بعد ایک نام پکارا جا رہا ہے۔ جس جس کا بھی نام لیا جا رہا وہ اپنی نشست سے اٹھ کر سر جھکا رہا ہے۔ دو محافظ اسے بازو سے پکڑ کر لے جائے جا رہے ہیں۔ اس طرح سے کئی لوگ باہر لے جائے گا۔ پھر خبر آئی کہ انہیں پارٹی قیادت سے غداری اور ملک دشمنی کے جرم میں گولی مار دی گئی۔

غداروں کی صفائی کے بعد ملک اور بعث پارٹی پر جواں سال قائد، رئیس الجمہوریہ صدام حسین کا دبدبہ مکمل ہو چکا ہے۔ اگلے چوبیس برس تک عراق کی ہر شاہراہ، موڑ، چوک، سرکاری دفتر، ٹی وی سکرین، اخبار کے صفحہ اول اور کرنسی نوٹ پر صرف رئیس الجمہوریہ کی شبہیہ دکھائی دے گی۔

کوئی بھی ان کی عقابی نگاہوں سے نہیں بچ سکتا۔ کوئی ان کے احترام میں صدارتی امیدوار بننے کی جرات نہیں کر سکتا۔ وہ بلاشبہ محبوب ترین رہنما ہیں جنہیں ہر صدارتی انتخاب میں ننانوے اعشاریہ ننانوے ووٹ ملیں گے۔

چوبیس برس کی اس صدارت میں صدام حسین اگر ایک سفاک آمر تھے تو صرف عراقی کردوں، شیعوں اور مخالف سنیوں کے لیے تھے۔امریکہ کے لیے وہ ایرانی ملاؤں کے سیلاب کے خلاف آزاد دنیا کے تحفظ کا بند تھے۔

 صدام حسین کی سزائے موت مکافاتِ عمل ہے ۔وہ ایک سفاک آمر تھے لیکن ناموں کی تبدیلی کے باوجود سفاکی کا بال ان کی معزولی کے بعد بھی بیکا نہیں ہو سکا۔ آج کی عراقی جمہوریت میں کوئی تیس فیصد مائیں ہی اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی جرات رکھتی ہیں۔ جو مڈل کلاس اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے زمانے میں ادھ موئی ہوئی تھی آج اقتصادی طور پر غائب ہوچکی ہے۔

کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن اور مصر جیسے ممالک کے حکمرانوں کے نزدیک صدام حسین لشکرِ عجم کے خلاف دوسری جنگِ قادسیہ لڑنے والے بطلِ جلیلِ عرب تھے لیکن جب انیس سو نوے میں صدام حسین کی فوج کویت میں داخل ہوئی تو یہی فخرِ عرب ننگِ عرب میں تبدیل ہوگیا۔

مغربی دنیا کا لاڈلا روشن خیال سیکولر آمر ابلیسیت کا ہار پہن کر ہٹلر اور مسولینی کی صف میں کھڑا کر دیا گیا اور پھر سب کو عراقی عوام پر صدام حسین کے مظالم بھی نظر آنے لگے۔

بلاشبہ صدام حسین اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہولناک شخص تھے۔ انہوں نے بعث پارٹی کی آڑ میں اپنے اردگرد ظالم خوشامدیوں کا ایک ٹولہ جمع کر لیا تھا۔ انہوں نے اپنے ہم قبیلہ افراد اور اہلِ خانہ کو خوب خوب نوازا۔ اپنے دونوں صاحبزادوں کو دندنانے اور من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ ڈھائی لاکھ عراقیوں کو ایران کے خلاف لاحاصل آٹھ سالہ جنگ کا چارہ بنا ڈالا اور اپنا خوف عراقی کردوں اور شیعوں کی ہڈیوں میں اتار دیا۔

لیکن صدام حسین کی سانس گھونٹنے والی اس آمریت میں بھی تعلیم اور صحت مفت تھی۔ پچاسی فیصد سے زائد آبادی پڑھنے لکھنے کے قابل تھی۔ ہزاروں طلبا سرکاری سکالر شپس پر مغربی یونیورسٹیوں میں سائنسی تعلیم حاصل کرنے جا رہے تھے۔ پورے ملک میں یورپی معیار کی شاہراہوں کا جال بچھا دیا گیا تھا۔

نصف آبادی کا شمار متوسط طبقے میں ہوتا تھا اور یہ کسی بھی عرب ملک کی سب سے بڑی مڈل کلاس تھی۔ملازمتوں میں خواتین کا تناسب چالیس فیصد کے لگ بھگ تھا۔کسانوں کو آدھی قیمت پر ٹریکٹر، تقریباً مفت تیل اور پچاس فیصد سستی بجلی فراہم کی جارہی تھی۔

ایک طرف اگر صدام حسین نے اپنے لیے ستر سے زائد محلات اور عالیشان رہائش گاہیں تعمیر کروائیں تو دوسری جانب عام آدمی کو بھی بنیادی ضروریات کی ضمانت دی۔ اقوام متحدہ کی بارہ سالہ پابندیوں نے اگرچہ مڈل کلاس کی کمر زمین سے لگا دی اور لاکھوں لوگ دواؤں کی کمیابی سے مرے لیکن کوئی عراقی فاقے سے نہیں مرا۔

 چوبیس برس کی اس صدارت میں صدام حسین اگر ایک سفاک آمر تھے تو صرف عراقی کردوں، شیعوں اور مخالف سنیوں کے لیے تھے۔امریکہ کے لیے وہ ایرانی ملاؤں کے سیلاب کے خلاف آزاد دنیا کے تحفظ کا بند تھے۔کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن اور مصر جیسے ممالک کے حکمرانوں کے نزدیک صدام حسین لشکرِ عجم کے خلاف دوسری جنگِ قادسیہ لڑنے والے بطلِ جلیلِ عرب تھے۔لیکن جب انیس سو نوے میں صدام حسین کی فوج کویت میں داخل ہوئی تو یہی فخرِ عرب ننگِ عرب میں تبدیل ہوگیا۔

مگر جو انصاف صدام حسین نے اپنے مخالفین کو نہیں دیا وہ انصاف خود صدام حسین کو بھی نصیب نہیں ہو سکا۔ دو برس کے مقدمے کےدوران تین جج تبدیل کیے گئے۔ جن وکلاء نے ان کا مقدمہ لڑا انہیں مستقل دھمکیوں اور ہر سمت سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بظاہر انہیں سزائے موت سے ذرا پہلے عراقی حکومت کے حوالے کیا گیا اور یہ تاثر بھی دیا گیا کہ مقدمے کی کاروائی سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ مقدمہ عراقی عدلیہ نےعراقی قوانین کے تحت چلایا ہے۔لیکن ان کی موت عملاً امریکی فوج کی نگرانی میں ہوئی۔

صدام حسین کی سزائے موت مکافاتِ عمل ہے ۔وہ ایک سفاک آمر تھے لیکن ناموں کی تبدیلی کے باوجود سفاکی کا بال ان کی معزولی کے بعد بھی بیکا نہیں ہو سکا۔ آج کی عراقی جمہوریت میں کوئی تیس فیصد مائیں ہی اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی جرات رکھتی ہیں۔ جو مڈل کلاس اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے زمانے میں ادھ موئی ہوئی تھی آج اقتصادی طور پر غائب ہوچکی ہے۔

صدام کے دور میں اگر جگہ سرکاری مخبروں کا راج تھا۔آج سرکاری ڈیتھ اسکواڈز اور کار بم پھاڑنے والوں کا راج ہے۔روزانہ تشدد سے مرنے والوں کا اوسط ایک سو کے لگ بھگ ہے۔

اگر صدام نے چوبیس برس میں ایک لاکھ کرد، شیعہ اور بعث مخالف سنی مارے تھے تو پچھلے ساڑھے تین برس میں چھ لاکھ کے لگ بھگ شہری مر چکے ہیں۔ایک لاکھ شہری ہر ماہ ملک سے بھاگ رہے ہیں۔اور اب تک اٹھارہ لاکھ سے زائد عراقی ملک چھوڑ چکے ہیں۔

صدام حسین کو تو آج لٹکایا گیا ہے لیکن عراق تو ایک عرصے سے متعفن لاش کی صورت پھانسی پر جھول رہا ہے۔ عراق نام کا جو ملک کبھی تھا آج محض شکاری کے ڈرائنگ روم میں سجی ہوئی ایک اور ٹرافی ہے۔

صدام بے سکرپٹ اداکار
بے سلاسل صدام عدالت پر چھائے رہے
صدام حسینصدر سے مجرم
صدام حسین صدر سے قیدی پھِر مجرم
صدام کیخلاف کیس
معزول صدر صدام حیسن کے خلاف مقدمات کیوں؟
صدام حسین’سکرپٹ بغیر ہیرو‘
مقدمات کمزور، مگر صدام حسین متلون مزاج
صدام حسین’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘
صدام کے مقدمے میں خامیوں کے انکشافات
صدام حسینصدام کی زندگی
معزول صدر کی زندگی کی تصویری جھلکیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد