صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو سنیچر کی صبح بغداد میں پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان کی پھانسی پر عالمی رہنماؤں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین، روس، لیبیا، فلسطین میں حماس کی حکومت نے پھانسی کے عمل کی مخالفت جبکہ امریکہ، ایران، کویت، اسرائیل اور جاپان سمیت کئی ممالک نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش آج صدام کو ایک شفاف عدالتی کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی۔ ان کے جابرانہ اعمال کے خلاف یہ انصاف ہے۔ صدام حسین کی پھانسی ایک ایسے مشکل سال کے اختتام پر ہوئی ہے جس میں عراقیوں اور ہمارے فوجیوں نے بڑی مشکلات اٹھائیں ہیں۔انہیں (صدام کو) ان کے کیے کی سزا دینے کا مطلب عراق میں تشدد کا خاتمہ نہیں ہے لیکن یہ عراق کا جموریت کی طرف ایک اہم قدم ہے جس کے تحت وہ سکون اور استحکام سے حکومت کر سکتے ہیں، اپنا دفاع کر سکتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی بن سکتے ہیں۔
آگے کے لیے ابھی بہت ساری قربانیاں اور مشکلات باقی ہیں۔ تاہم امریکی عوام کی سکیورٹی اسی میں مضمر ہے کہ عراق میں جمہوری اقدار اسی طرح فروغ پاتی رہیں۔ ویٹیکن ویٹیکن کی جانب سے صدام کی پھانسی کو ’افسوس ناک خبر‘ قرار دیا گیا ہے۔ ویٹیکن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی پھانسی سے انتقامی جذبات پیدا ہونے اور تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ برطانوی خارجہ سیکرٹری مارگریٹ بیکٹ صدام نے اپنے دور اقتدار میں جو کچھ کیا، عراق کی عدالت میں ان پر ان کے جرائم کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور اب انہیں ان کے کرتوں کی سزا مل گئی ہے۔ برطانیہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا خیرمقدم کرتا ہے۔ برطانیہ کی حکومت عراق یا دنیا کےکسی اور مقام پر موت کی سزا دیے جانے کی حمایت نہیں کرتی۔ ہم نے اس بارے میں عراقی حکومت کو واضح طور پر بتا دیا تھا۔ ہم ایک خودمختار ریاست کے طور پر ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ فرانس تمام عراقیوں سے مستقبل کے بارے میں سوچنے، باہمی اتحاد، اتفاق اور قومی یکجہتی کے فروغ کی درخواست کرتا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ پیش نظر یہی مقصد ہونا چاہیے کہ عراق مکمل خود مختاری اور اندرونی استحکام کی راہ پر گامزن ہو۔ آسٹریلیا کے وزیر خارجہ الیگزینڈر ڈونر نہیں معلوم کہ کوئی موت کی سزا کے بارے میں کیا سوچتا ہے تاہم عراق کی حکومت موت کی سزا کے حوالے سے آسٹریلیا کے مؤقف سے آگاہ ہے۔ ہم خودمختار ریاست کی حیثیت سے عراقی حکومت کی اپنی حدود میں عوام کے خلاف جرائم پر اس قسم کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ صدام کو شفاف عدالتی کارروائی اور پھر اپیل کے بعد ہی ان کے کیے کی سزا دی گئی ہے۔
اٹلی کے وزیراعظم رومانو پروڈی اٹلی موت کی سزا کے خلاف ہے، چاہے وہ صدام حسین جیسا کوئی ڈرامائی کیس ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارا اب بھی یہی کہنا ہے کہ موت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ افغانستان ایران
کویت 1990 میں کویت پر چڑھائی کرنے والےصدام حسین کی پھانسی پر کویت میں کسی بھی جگہ افسوس کا اظہار نہیں کیا گیا۔ کویت کے ایکٹنگ وزیراعظم شیخ جابر المبارک کا کہنا تھا کہ صدام عراقی عوام اور ملتِ اسلامیہ کے دشمن تھے۔ اسرائیل امریکہ کے مضبوط اتحادی اسرائیل نے صدام کی پھانسی کے اقدام کو سراہا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق انصاف ہوا ہے۔ روس روس کی وزرات خارجہ نے ایک بیان میں صدام کی پھانسی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام کو معافی دینے کی بین الاقوامی درخواست کو رد کردیا گیا۔ فلسطین حماس کی حکومت کا کہنا تھا کہ صدام ایک جنگی قیدی تھے۔ اور ان کی پھانسی ایک’ سیاسی قتل‘ ہے۔ اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
لیبیا صدام حسین کی پھانسی پر لیبیا میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ جرمنی جرمنی کے جونیئر وزیر خارجہ جرنوٹ ارلر کا کہنا تھا کہ وہ صدام دور میں جبر کا نشانہ بننے والے افراد کے جذبات سمجھ سکتے ہیں تاہم ان کا ملک موت کی سزا کی مخالفت کرتا ہے۔ جاپان جاپان کے وزیراعظم شینو ابے کا کہنا تھا کہ وہ عراق کے اس فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جاپان امید کرتا ہے کہ عراق میں استحکام کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور وہ بین الاقوامی برداری میں اپنا کردار ادا شروع کردے گا۔ رچرڈ ڈکر، ہیومن رائٹس واچ عراقی حکومت کی انسانی حقوق کی پاسداری کا امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے بدترین مخالفین سے کس قسم کا سلوک کرتی ہے۔ تاریخ خود ہی دجیل مقدمے اور اس بدترین پھانسی کی خامیوں کی نشاندہی کرے گی۔
لیاقت بلوچ، ایم ایم اے، پاکستان ہمیں صدام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ صدام کی پھانسی سے عراق میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔ فرقہ وارانہ تشدد بڑھے گا اور ہمیں یقین ہے کہ صدام کی پھانسی عراق کو توڑنے کا امریکی منصوبہ ہے۔ |
اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی کے ردعمل کے لیے تیار رہیں‘30 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: سوانحی خاکہ30 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘29 December, 2006 | آس پاس صدام حسین: بغیر سکرپٹ کے ہیرو29 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||