BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 December, 2006, 09:10 GMT 14:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام کی پھانسی پر عالمی ردِعمل
صدام حسین
عراقی عدالت نے صدام کو دجیل مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو سنیچر کی صبح بغداد میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

ان کی پھانسی پر عالمی رہنماؤں نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین، روس، لیبیا، فلسطین میں حماس کی حکومت نے پھانسی کے عمل کی مخالفت جبکہ امریکہ، ایران، کویت، اسرائیل اور جاپان سمیت کئی ممالک نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔
لیبیا نے صدام حسین کی پھانسی پر ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش

آج صدام کو ایک شفاف عدالتی کارروائی کے بعد موت کی سزا دے دی گئی۔ ان کے جابرانہ اعمال کے خلاف یہ انصاف ہے۔ صدام حسین کی پھانسی ایک ایسے مشکل سال کے اختتام پر ہوئی ہے جس میں عراقیوں اور ہمارے فوجیوں نے بڑی مشکلات اٹھائیں ہیں۔انہیں (صدام کو) ان کے کیے کی سزا دینے کا مطلب عراق میں تشدد کا خاتمہ نہیں ہے لیکن یہ عراق کا جموریت کی طرف ایک اہم قدم ہے جس کے تحت وہ سکون اور استحکام سے حکومت کر سکتے ہیں، اپنا دفاع کر سکتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی بن سکتے ہیں۔

امریکی صدر کے بقول صدام کو ان کے کیے کی سزا ملی ہے

آگے کے لیے ابھی بہت ساری قربانیاں اور مشکلات باقی ہیں۔ تاہم امریکی عوام کی سکیورٹی اسی میں مضمر ہے کہ عراق میں جمہوری اقدار اسی طرح فروغ پاتی رہیں۔

ویٹیکن

ویٹیکن کی جانب سے صدام کی پھانسی کو ’افسوس ناک خبر‘ قرار دیا گیا ہے۔ ویٹیکن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی پھانسی سے انتقامی جذبات پیدا ہونے اور تشدد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

برطانوی خارجہ سیکرٹری مارگریٹ بیکٹ

صدام نے اپنے دور اقتدار میں جو کچھ کیا، عراق کی عدالت میں ان پر ان کے جرائم کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور اب انہیں ان کے کرتوں کی سزا مل گئی ہے۔ برطانیہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا خیرمقدم کرتا ہے۔

برطانیہ کی حکومت عراق یا دنیا کےکسی اور مقام پر موت کی سزا دیے جانے کی حمایت نہیں کرتی۔ ہم نے اس بارے میں عراقی حکومت کو واضح طور پر بتا دیا تھا۔ ہم ایک خودمختار ریاست کے طور پر ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

فرانس کی وزارتِ خارجہ

فرانس تمام عراقیوں سے مستقبل کے بارے میں سوچنے، باہمی اتحاد، اتفاق اور قومی یکجہتی کے فروغ کی درخواست کرتا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ پیش نظر یہی مقصد ہونا چاہیے کہ عراق مکمل خود مختاری اور اندرونی استحکام کی راہ پر گامزن ہو۔

آسٹریلیا کے وزیر خارجہ الیگزینڈر ڈونر

نہیں معلوم کہ کوئی موت کی سزا کے بارے میں کیا سوچتا ہے تاہم عراق کی حکومت موت کی سزا کے حوالے سے آسٹریلیا کے مؤقف سے آگاہ ہے۔ ہم خودمختار ریاست کی حیثیت سے عراقی حکومت کی اپنی حدود میں عوام کے خلاف جرائم پر اس قسم کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ صدام کو شفاف عدالتی کارروائی اور پھر اپیل کے بعد ہی ان کے کیے کی سزا دی گئی ہے۔

اٹلی نے صدام کو سزائے موت کی مخالفت کی تھی

اٹلی کے وزیراعظم رومانو پروڈی

اٹلی موت کی سزا کے خلاف ہے، چاہے وہ صدام حسین جیسا کوئی ڈرامائی کیس ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارا اب بھی یہی کہنا ہے کہ موت کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔

افغانستان
صدر حامد کرزئی نے صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کے وقت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عید کا دن بدلے کا نہیں بلکہ خوشی کا موقع ہے۔

ایران
عراق کے اہم پڑوسی اور موجودہ امریکی انتظامیہ کے مخالف ملک ایران نے صدام حسین کی سزائے موت کی خبروں کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی کا کہنا تھا کہ پھانسی کا عدالتی فیصلہ صدام کے ظلم کا نشانہ بننے والے ہزاروں ایرانی، عراقی اور کردوں کے لیے خوش کا سبب بنا ہے۔ صدام دور میں عراق ایران جنگ آٹھ سال تک چلتی رہی جس میں لاکھوں افراد مارے گئے۔

کویت میں ٹی وی پر صدام کی پھانسی کی خبر کا خیر مقدم کیاگیا

کویت

1990 میں کویت پر چڑھائی کرنے والےصدام حسین کی پھانسی پر کویت میں کسی بھی جگہ افسوس کا اظہار نہیں کیا گیا۔ کویت کے ایکٹنگ وزیراعظم شیخ جابر المبارک کا کہنا تھا کہ صدام عراقی عوام اور ملتِ اسلامیہ کے دشمن تھے۔

اسرائیل

امریکہ کے مضبوط اتحادی اسرائیل نے صدام کی پھانسی کے اقدام کو سراہا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق انصاف ہوا ہے۔

روس

روس کی وزرات خارجہ نے ایک بیان میں صدام کی پھانسی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام کو معافی دینے کی بین الاقوامی درخواست کو رد کردیا گیا۔

فلسطین

حماس کی حکومت کا کہنا تھا کہ صدام ایک جنگی قیدی تھے۔ اور ان کی پھانسی ایک’ سیاسی قتل‘ ہے۔ اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

لیبیا میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

لیبیا
صدام حسین کی پھانسی پر لیبیا میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

جرمنی

جرمنی کے جونیئر وزیر خارجہ جرنوٹ ارلر کا کہنا تھا کہ وہ صدام دور میں جبر کا نشانہ بننے والے افراد کے جذبات سمجھ سکتے ہیں تاہم ان کا ملک موت کی سزا کی مخالفت کرتا ہے۔

جاپان

جاپان کے وزیراعظم شینو ابے کا کہنا تھا کہ وہ عراق کے اس فیصلے کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جاپان امید کرتا ہے کہ عراق میں استحکام کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور وہ بین الاقوامی برداری میں اپنا کردار ادا شروع کردے گا۔

رچرڈ ڈکر، ہیومن رائٹس واچ

عراقی حکومت کی انسانی حقوق کی پاسداری کا امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے بدترین مخالفین سے کس قسم کا سلوک کرتی ہے۔ تاریخ خود ہی دجیل مقدمے اور اس بدترین پھانسی کی خامیوں کی نشاندہی کرے گی۔

صدام کی پھانسی سےعراق میں صورت حال اور خراب ہو جائے گی: لیاقت

لیاقت بلوچ، ایم ایم اے، پاکستان

ہمیں صدام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ صدام کی پھانسی سے عراق میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔ فرقہ وارانہ تشدد بڑھے گا اور ہمیں یقین ہے کہ صدام کی پھانسی عراق کو توڑنے کا امریکی منصوبہ ہے۔

صدام حسینصدارت سے سولی
صدام حسین کی زندگی میں کب کونسے موڑ آئے
صدام حسین’سکرپٹ بغیر ہیرو‘
مقدمات کمزور، مگر صدام حسین متلون مزاج
صدام حسین’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘
صدام کے مقدمے میں خامیوں کے انکشافات
صدام حسینصدام کی زندگی
معزول صدر کی زندگی کی تصویری جھلکیاں
اسی بارے میں
صدام حسین: سوانحی خاکہ
30 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد