صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عراقی جج کا کہنا ہے کہ صدام حسین کو آنے والے دو دنوں میں پھانسی دیے جانے کا امکان ہے جبکہ امریکی سفارتخانوں کو آئندہ چند دنوں میں پھانسی کے حوالے سے حفاظتی تیاریاں کرنے کو کہا گیا ہے۔ عراقی اپیل عدالت کے جج منیر حداد کے مطابق انہیں سنیچر کا دن ختم ہونے سے پہلے پہلے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد ہوتا دیکھنے کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ منیر حداد کا کہنا تھا کہ’ انہوں نے مجھے کہا کہ میں تیار رہوں۔ آج رات یا پھر کل‘۔ دجیل قتلِ عام مقدمے میں سزائے موت کے خلاف معزول عراقی صدر کی اپیل مسترد ہونے کے بعد ان کی پھانسی کی تاریخ اور مقام کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے صدام حسین کے وکیل خلیل الدولیمی سے ایک بیان منسوب کیا تھا کہ ’امریکیوں نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے صدر کو عراقی حکام کے حوالے کر دیا ہے‘۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ٹام کیسی نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ ان(صدام حسین) کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘۔ تاہم ایک امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی وزارتِ خارجہ نے سفارتخانوں کو آئندہ چند دنوں میں پھانسی کے حوالے سے حفاظتی تیاریاں کرنے کو کہا گیا ہے۔ عراق کے معزول صدر صدام حسین کے مرکزی وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ انہیں صدام حسین کی ذاتی اشیاء وصول کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے ۔ صدام کے وکلاء کی ٹیم کے سربراہ خلیل الدولیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی فوجی حکام نے انہیں کہا ہے کہ وہ صدام کی ذاتی اشیاء وصول کرنے کے لیے کسی شخص کو مقرر کریں یا پھر انہیں کوئی پتہ بتائیں جہاں وہ چیزیں بھیجی جا سکیں۔
ممکنہ بدامنی اور خانہ جنگی سے بچنے کے لیے تاحال صدام کی حوالگی کا وقت اور مقام ظاہر نہیں کیا گیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ اطلاعات صرف معزول صدر کے خلاف سزا پر عملدرآمد کے بعد ہی سامنے لائی جائیں۔ بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ سچ کیا ہے لیکن عراقی حکام کہہ رہے ہیں کہ صدام حسین ابھی امریکی تحویل میں ہیں۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بھی جمعہ کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ معزول صدر صدام حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد میں نہ تو کوئی تاخیر کی جائے گی اور نہ ہی اس پر (رد و بدل کے لیے) دوبارہ غور کیا جائے گا۔ صدام حسین کے سوتیلے بھائیوں سباوی اور وتبن ابراہیم سے جیل میں ان کی ملاقات بھی کرا دی گئی ہے۔ معزول صدر کے یہ دونوں بھائی بھی جیل میں قید ہیں۔ ایک دوسرے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ چند دن قبل صدام نے اپنے خاندان کے افراد سے ملاقات کی ہے۔ تاہم عراق کے نائب وزیر انصاف بشو ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدام حسین کو حکومت کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔
سزائے موت کے خلاف معزول صدر صدام حسین کی اپیل تین روز قبل مسترد کر دی گئی تھی۔ اپیل مسترد ہونے کی تاریخ سے لیکر چار ہفتوں کے دوران یعنی ستائیس جنوری سے پہلے انہیں کسی بھی وقت پھانسی دی جا سکتی ہے۔ انیس سو اسّی میں عراق کے علاقے دجیل میں ہونے والی 148 شیعہ افراد کی ہلاکتوں کی پاداش میں معزول صدر صدام حسین کو اس سال پانچ نومبر کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ صدام حسین کے خلاف کردوں کی ’نسل کشی‘ کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے۔ صدام حسین کے قسمت کی بارے میں اس قسم کی متضاد اطلاعات ان کے وکیل کی اس درخواست کے ایک دن بعد سامنے آئی ہیں جس میں انہوں نے بین الاقوامی برداری سے صدام کو پھانسی دینے کے لیے عراقی حکومت کے حوالے کرنے سے روکنے کی اپیل کی تھی۔ خیل الدولیمی کا کہنا تھا کہ صدام جنگی قیدی ہیں اور انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہیں کیاجانا چاہیے۔ اس سے قبل جیل سے لکھے ایک خط میں صدام نے کہا تھا کہ وہ عراق کے عوام پر قربان ہونے کو تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں جو کرنا ہے کریں: صدام حسین 06 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کی سزائے موت برقرار26 December, 2006 | آس پاس صدام: عراق کے لیے ’قربانی‘ پر تیار27 December, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی: امریکی ہاں،یورپی نہ27 December, 2006 | آس پاس صدام کو ’پھانسی تیس روزمیں‘27 December, 2006 | آس پاس عراق میں3 فوجیوں سمیت 20ہلاک 28 December, 2006 | آس پاس صدام کی پھانسی کے خلاف اپیل04 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||