صدام حسین عوجہ میں سپردِ خاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین کو اتوار کی صبح چار بجے چند لوگوں کی موجودگی میں آبائی قصبے عوجہ میں دفنا دیا گیا۔ انہتر سالہ صدام حسین کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کی پاداش میں ہفتہ کی صبح بغداد میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا اور ان کو پھانسی کے بائیس گھنٹے بعد رات کے اندھیرے میں دفنا دیا گیا۔ عراقی حکومت نے پہلے اعلان کیا تھا کہ صدام حسین کو سنی اکثریتی علاقے رمادی میں سپرد خاک کیا جائے گا لیکن بعد میں ان کو عوجہ میں دفنا دیا گیا۔ صدام حسین کی تدفین کےوقت وہاں صرف ان کے قبیلے کے چند لوگ موجود تھے۔اس قبرستان میں صدام حسین کے دو بیٹے، عدے اور قصے، بھی مدفون ہیں جن کو امریکی فوجیوں نےہلاک کر دیا تھا۔صدام حسین کی دو بیٹیاں اردن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ صدام حسین کی دو بیٹیوں کے ترجمان کے مطابق دونوں بہنوں نے اپنے والد کے آخری لمحات ٹی وی پر دیکھے اور وہ انتہائی دکھی تھیں۔ ’لیکن انہیں اس بات پر فخر تھا کہ صدام حسین نے تختہ دار پر بڑی دلیری اور استقامت کے ساتھ جلادوں کا سامنا کیا۔
صدام حسین کے ایک رشتہ دار موسٰی فراج نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’صدام کو مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے عوجہ کے وسطی علاقے میں اس جگہ دفنا دیا گیا جو ان کے دورِ اقتدار میں تعمیر کی گئی تھی۔‘ صدام حسین کو پھانسی دینے کا عمل ویڈیو پر ریکارڈ کیاگیا۔ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی تصویر میں صدام حسین کو تختہ دار پر کھڑے دیکھایا گیا لیکن ان کی پھانسی کے وقت وہاں موجود لوگوں میں سے ایک نے ان کی زندگی کے آخری لمحات موبائل فون پر ریکارڈ کیئے جو عربی ٹی چینلوں اور انٹرنیٹ پر دیکھائے جا رہے ہیں۔ ان ویڈیو کے مطابق صدام حسین کو سکیورٹی گارڈ نےطعنے دیئے جس کا انہوں نے تختہ دار پر کھڑے ہوئے مسکراتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ’ مردانگی‘ کا مظاہرہ کریں۔ تازہ ویڈیو کے مطابق صدام حسین نے تختہ دار پر چڑھنے سے پہلے پرسکون تھے اور امریکہ مردہ باد اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ ایک گارڈ کے پوچھنے پر کہ کیا انہیں ڈر نہیں لگ رہا تو صدام حسین نے کہا کہ وہ ساری زندگی’ کفار‘ کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور انہیں موت سے ڈر نہیں لگتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے عراق کو نہیں بلکہ حملہ آوروں اور ایرانیوں کو تباہ کیا ہے اور جنہم میں نہیں بلکہ جنت میں جگہ پائیں گے۔ صدام حسین کی پھانسی دیئے جانے پر عالمی طور پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور ایران نے صدام حسین کی پھانسی کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ یورپی یونین، روس، سعودی عرب، لیبیا، اور فلسطین میں حماس کی حکومت نے پھانسی کی مخالفت کی ہے۔لیبیا نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا عراق میں صدام حسین کی پھانسی کی خبر پر شیعہ آبادی والے شہر صدر میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا لیکن تکریت میں ان کی پھانسی کی خبر کے بعد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
عراق کی قومی سلامتی کے مشیر موافق الرباعی نے جنہوں نے صدام حسین کو پھانسی چڑھتے دیکھا، بی بی سی کو بتایا: ’صدام حسین کو ہتھکڑیاں لگا کر لایا گیا تھا۔ ان کے ہاتھ میں قرآن مجید تھا اور وہ شکست خوردہ دکھائی دے رہے تھے اور انہوں نے کچھ نعرے بھی لگائے۔‘ صدام حسین کی پھانسی کی تازہ ویڈیو کے مطابق وہ آخری لمحہ تک لڑنے پر آمادہ نظر آئے۔ سابق عراقی صدر کی موت کے وارنٹ پر عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی نے دستخط کیئے۔ پھانسی کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا: ’صدام حسین کے خاتمے سے عراقی تاریخ کا ایک تاریک باب بند ہوگیا ہے۔‘ صدام حسین کو انٹیلجنس ہیڈکوارٹر کی عمارت میں پھانسی دی گئی جہاں مبینہ طور پر انہوں نے اپنے کئی سیاسی مخالفوں کو مروا دیا تھا۔ صدام حسین کو پھانسی گھاٹ پر لے جانے والوں اور خود جلاد نے اپنے منہ نقابوں سے چھپا رکھے تھے۔ سابق عراقی صدر نے قیدیوں کے لباس کی بجائے سفید قمیض اور گہرے رنگ کا اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔ اگرچہ انہوں نے نقاب پہننے سے انکار کر دیا تھا تاہم جلاد نے پھندا ڈالنے سے قبل صدام حسین کی گردن میں ایک چھوٹی سے پٹی ڈالی۔ |
اسی بارے میں ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘29 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس قذافی کی بیٹی، صدام کا دفاع 03 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||