عراق،خانہ جنگی کے سائے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد کا ماحوال ایسا ہے کہ جیسے وہاں اب بھی کرفیونافذ ہو۔ سڑکوں پر عام طور پر خاموشی ہے اور بیشتر دکانیں بھی بند ہیں۔ اس خاموشی کی وجہ لوگوں میں گزشتہ ہفتے کے بم دھماکوں کا خوف و ہراس ہے جس سے وہ اب باہر نہیں آسکے ہیں۔ دھماکوں میں تقریبا دوسو افراد ہلاک ہوئے تھے اور اب لوگوں کو پہلے سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔ کرفیواٹھا لیا گیا ہے لیکن لوگوں میں اعتماد بحال نہیں ہوا ہے۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ عراقی حکومت اور امریکیوں کے بس میں نہیں ہے کہ وہ حالات کو دوبارہ معمول پر لے آئیں۔ منصوبے کے تحت بغداد میں اب مزید امریکی فوجیوں کو تعینات کرنے کی بات ہورہی ہے۔ لیکن یہ سب اس سے پہلے بھی کیا جاچکا ہے اور اسکے کوئی خاص نتائج برآمد نہیں ہوۓ ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور امریکی صدر جاج بش جس دوران عمان میں عراقی صورت حال پر تبادلہ خیال کر رہے تھے اسی دوران بغداد کے آس پاس سے تقریبا اسی مزید لاشیں بر آمد ہوئی تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تمام ہلاکتیں فرقہ وارانہ فسادات میں ہوئی ہیں۔ مشرقی بغداد میں دوا کی ایک دکان دار صنّعا سمر نے بتایا کہ ' اسکول اور بازار سمیت کہیں بھی حالات معمول پر نہیں ہیں اور کوئی بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا ہے۔، سمر کا کہنا ہے کہ پہلے دکان داری کے لیے بہت لوگ آتے تھے اور اب صرف اکّا دکّا لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ سمر کہتی ہیں کہ یہ 'خانہ جنگی نہیں تو پھر کیا ہے۔ جہاں لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہاں تو حالات کچھ بہتر ہیں لیکن دوسرے علاقوں میں خانہ جنگی کا ماحول ہے۔، ہم الیکٹرانک اشیاء والے بازار میں پہنچے تووہاں کہیں باہر سامان دکھائي نہیں دیا۔ کچھ دکانیں کھلی تھیں لیکن سب نےکھڑکیاں بند کر رکھی تھیں۔ صرف ایک شخص سعد صبا کیفے کے باہر کھڑے ملے۔ انکا کہنا تھا کہ بڑی ہمت کرکے وہ دوست سے ملاقات کے لیے نکلے ہیں۔ صبا نے کہا کہ ' لوگوں میں خوف ہے اوروہ گھر سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں ہمارا آفس پاس میں ہی ہے لیکن حالات اتنے خطرناک ہیں کہ ہم کام نہیں کرسکتے ۔، بغداد کے بیشتر سکولوں کا بھی یہی حال ہے۔ طلباء اور اساتذہ نہیں آرہے ہیں اور بہت سے تو ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ جب تک حالات کا پوری طرح صحیح نہیں ہوتے وہ اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے۔ منگل کے روز میں نے اپنی جان پہچان کی ایک پروفیسر کے پاس فون کیا جو کرفیو کے خاتمے کے بعد کام پر واپس لوٹی تھیں ۔ انکے شعبہ میں ساٹھہ طلباء ہیں لیکن انکا کہنا تھا کہ صرف دس حاضر ہوۓ ہیں۔ اب وہ کام پر نہیں جارہی ہیں اور ہزاروں لوگوں کی طرح وہ بھی ملک چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ اقوام متحدہ کے جائزے کے مطابق عراق سے ہر ماہ ایک لاکھ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں اور زیادہ تر لوگ پڑوسی ممالک شام اور اردن میں پناہ لے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد: مسجد پر حملہ گیارہ ہلاک03 April, 2006 | صفحۂ اول عراق میں پانچ سکیورٹی اہلکاراغوا17 November, 2006 | صفحۂ اول بش، نور المالکی سے ملیں گے 22 November, 2006 | صفحۂ اول عراق: سمیرعلی کےشب و روز 24 November, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||