BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 November, 2006, 16:39 GMT 21:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: سمیرعلی کےشب و روز
ڈاکٹر سمیر علی
ڈاکٹر سمیر علی

بی بی سی آن لائن سروس نے عراقی شہریوں کی عام زندگی کے متعلق ایک سیریز شروع کی ہے جسے اس ہفتے سلسلے وار شائع کیا جارہا ہے۔

اکتیس سالہ سمیر علی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور بغدار کے ایک ہسپتال میں یورو لوجی شعبہ میں طالب علم ہیں۔ انکا تعلق شمالی عراق میں کرکک سے ہے۔

سمیر کہتے ہیں کہ ایک برس قبل انکے ہسپتال میں تقریبا چالیس ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ یورولوجی کےگیارماہر کام کرتے تھے ۔ لیکن اب صرف نو ڈاکٹر بچے ہیں اور تین ماہر۔

ان میں سے بیشتر یا تو ملک چھوڑ کر چلے گئے یا پھر ملک کے دوسرے علاقوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔

میں بغداد میں اس لیے رکا ہوں تاکہ اپنی تعلیم مکمل کر سکوں۔ باقی ڈاکٹر کام سےعاجز ہوگئے تھے آپریشن کرتے کرتے تھک گیے تھے اور بعض اوقات تو تین چار روز تک انہیں ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے۔

سمیر کے مطابق ڈاکٹروں پر کام کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ وہ دوسرے ہسپتالوں میں کام تلاش کر نے پرمجبور ہیں۔ وہ چھوٹے ہسپتالوں میں کام کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان جگہوں پر جہاں تشدد کم ہے۔

میں بغداد کے میڈیکل سٹی میں کام کرتا ہوں۔ یہ ہسپتال اس بڑے گروپ کا حصہ ہے جس میں طلباء طب کی اعلئی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جہاں عراق کے سب سے اچھے پروفیسر دستیاب ہیں۔

ہمارے یہاں دو طرح کے کام ہیں، ایک معمول کے مطابق اور دوسری ہنگامی نوعیت کا۔ ایک ایمرجنسی یونٹ تو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے۔ لیکن اسٹاف کی کمی کے سبب ایمرجنسی ٹیم پوری نہیں ہوپاتی ہے۔

بم دھماکے سے متاثرہ افرد کو سر، گردے یا آنت کہیں بھی چوٹ لگ سکتی ہے اس لیے آپریشن ٹیم میں ہر طرح کے ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن ایسا ہے نہیں اس لیے کئی بار زخمیوں کو منتقل کرنا ہوتا ہے اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ بغداد میں آج کل نقل و حمل کتنا مشکل کام ہے۔

اس بات کا اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اس پریشانی کےسبب کتنے مریض ہلاک ہوجاتے ہیں۔

 میں ہسپتال کے اندر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتا ہوں کیونکہ وہاں سبھی کو پہچانتا ہوں۔ ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے پولیس اور سپاہی بھی ہستپال کےگیٹ پر تعینات ہوتے ہیں۔ان میں بیشتر ہماری حفاظت کے لیے ہیں۔ لیکن ہمیں پھر بھی خوف ہے کہ کہیں ان میں سے کوئی ایک ملٹنٹ تو نہیں ہے۔
ڈاکٹرسمیرعلی

تین ہفتے قبل ہی میرا آخری امتحان ختم ہوا ہے لیکن میں اپنا کلینک اس لیے نہیں کھول سکتا کیونکہ یہاں کوئی کسی بھی وقت اغوا ہوسکتا ہے۔

میرا گھر تین سو کلو میٹر دور ہے۔ پہلے میں ہر ہفتے گھر جایا کرتا تھا لیکن اب مہینے میں ایک بار کیونکہ اب باہر نکالنا ہی مشکل ہوگیا ہے۔

میں ہسپتال کے اندر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھتا ہوں کیونکہ وہاں سبھی کو پہچانتا ہوں۔ ڈاکٹروں کی حفاظت کے لیے پولیس اور سپاہی بھی ہسپتال کےگیٹ پر تعینات ہوتے ہیں۔

ان میں بیشتر ہماری حفاظت کے لیے ہیں۔ لیکن ہمیں پھر بھی خوف ہے کہ کہیں ان میں سے کوئی ایک شدت پسند تو نہیں ہے۔

میں بغداد میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی وجہ سے رکا ہوا ہوں لیکن بہتر یہ ہوگا کہ میں اپنے آبائی شہر کرکک میں رہوں کیونکہ وہاں میرے اپنے لوگ میری حفاظت کر ینگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد