عراق: 2007 افراتفری میں اضافے کا سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برس قبل جب میں نے سال دو ہزار چھ کے لیے پیشن گوئیاں کی تھیں تو مجھے خدشہ تھا کہ میری باتیں بالکل غلط بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ میں نے کہا تھا کہ ایریئل شرون اسرائیل میں چونکا دینے والی کوئی بات کریں گے۔ نیا سال شروع ہوئے چند دن ہی گزرے تھے کہ ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ میں نے ایک محب وطن کی طرح کہا تھا کہ انگلینڈ رگبی ورلڈ کپ جیت جائے گا۔ سو ایسا ہی ہوا۔ اب آپ اندازہ لگا لیجیئے کہ میری مستقبل بینی کیسی ہے۔ ویسے درحقیقت میرا خیال ہے کہ سالِ گزشتہ کو دو تنازعات کے حل اور دو نئے تصورات کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا۔ پہلے تو یہ کہ دو ہزار چھ وہ سال تھا کہ جب عالمی حدت یا درجۂ حرارت میں اضافے کے سائنسی دلائل کو سب نے تسلیم کرلیا اور یہ بات مان لی کہ کرّۂ ارض کو لاحق خطرات میں سے یہ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اور اس بات میں بھی شبہ نہیں رہا کہ عالمی گرمی میں اضافہ موسموں کی گردش کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری بے ہنگم صنعتی ترقی کا شاخسانہ ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اب بھی اس حقیقت کی عوامی سطح پر مخالفت کی جاتی ہے مگر درپردہ وہ بھی صورتحال کی سنگینی کو مانتے ہیں۔
دوسرا تنازع عراق کا ہے۔ امریکی صدر بش کو بظاہر اب بھی یقین ہے کہ انہیں عراق میں وہ ’مکمل فتح‘ حاصل ہو جائے گی جو پچھلے دو برسوں میں نہیں ملی سکی ہے۔ مگر حالات نے وہ موڑ دو ہزار چھ کے ابتداء ہی میں کاٹ لیا تھا۔ اب تو صدر بش کی ریپبلیکن پارٹی کے زیادہ تر ارکان اور کئی سینیئر جنرل اور بہت سے عام امریکی شہری یہ مانتے ہیں کہ عراق کا معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ تصورات جو بدل گئے ہیں۔ خطے کے بعض ممالک مثلاً سعودی عرب اب چین کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں۔ کئی دوسرے ممالک جو رہنمائی کے لیے امریکی کی طرف دیکھتے اب سمجھنے لگے ہیں کہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ حزب اللہ کے ساتھ تباہ کن جنگ نے خطے میں اسرائیلی بالادستی کے تصور کو دھچکا لگایا۔ اور جب کسی ملک کی طاقت کا خوف مِٹ جائے تو بعض اوقات حالات خطرناک سمتوں میں نکل جاتے ہیں۔ تو 2007 کیا لے کر آئے گا؟ گلوبل وارمنگ یا عالمی گرمی میں اضافے سے متعلق عالمی معاہدے، کیوٹوپروٹوکول کو مزید پذیرائی ملے گی۔ عراق میں مکمل خانہ جنگی کا خطرہ زیادہ ہوجائے گا اور امریکی فوج میں اضافہ بھی اسے روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ عراقی شیعہ صدام حسین کی موت پر خوشیاں منائیں گے اور بیس فی صد کے لگ بھگ سنّی قومی دھارے سے مزید الگ تھلگ ہوتے چلیں جائیں گے۔ کردوں کا علاقہ بغداد کے اثر سے دور ہوتا چلا جائے گا اور عراق کو تقسیم کرنے کی باتیں زیادہ زور وشور سے ہونے لگیں گی، خاص طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو نہ تو عراق کے بارے میں جانتے ہیں نہ ہی انہیں اس سے کوئی سروکار ہے۔ عراق سے جیسے ہی امریکی اور برطانوی فوجوں کا انخلاء شروع ہوگا، یہ بتانا مشکل تر ہوجائے گا کہ ملک کا کیا بنے گا۔ سال کے اختتام تک عراق کے بارے میں خبروں کا حصول زیادہ مشکل ہوجائےگا۔ صدر بش ایران پر برّی فوج سے حملہ نہیں کریں گے۔ ان کے وزیر دفاع نے واضح طور پر اس امکان کو رد کیا ہے اور پھر امریکی فوج ایسا کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتی۔
ہاں، صدر بش ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کی خواہش کو شدت کے ساتھ محسوس کریں گے کیونکہ انہیں مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسا کرنے سے ایرانی عوام صدر احمدی نژاد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہوگا، خاص طور پر اگر حملہ ایران پر کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ فلسطینی قیادت کے ساتھ سمجھوتے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ مگر چونکہ فلسطین میں خانگی کشیدگی میں اضافہ ہوگا اس لیے اولمرٹ کی کوششیں خطرے کی زد میں رہیں گی۔ اگر لبنان میں شورش ہوئی تو اسرائیل موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ | اسی بارے میں گیٹس کا فوج بھیجنے کا پہلا حکم27 December, 2006 | آس پاس عراق دھماکوں میں 70ہلاک 30 December, 2006 | آس پاس صدام پھانسی: ’فرقہ واریت بڑھے گی‘30 December, 2006 | پاکستان ’خانہ جنگیوں‘ کا امکان26 November, 2006 | آس پاس شام اورایران سے کوئی نرمی نہیں14 November, 2006 | آس پاس شیرون کے دماغ کی شریان پھٹ گئی04 January, 2006 | آس پاس غزہ قید خانہ بن چکا ہے: اقوام متحدہ 26 September, 2006 | آس پاس ہماری فتح تاریخی ہے: نصراللہ22 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||