BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 December, 2006, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پھانسی سےفرقہ واریت بڑھےگی‘

صدام حسین
عراقی قانون کے مطابق کسی مجرم کو عید اور حج کے روز تختہ دار پر نہیں لٹکایاجا سکتا
پاکستان میں بیشتر سیاستدانوں نے معزول عراقی صدر صدام حسین کی پھانسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عراق میں فرقہ وارانہ تقسیم بڑھے گی۔

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ صدام حسین نے بہت ظلم کیے تھے لیکن انہیں عید کے روز پھانسی دے کر زیرو سے ہیرو بنادیا گیا ہے اور اس سے عراق میں فرقہ واریت میں اضافہ ہوگا۔

حکمران مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ عید کے موقع پر صدام حسین کی پھانسی سے عراق میں حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے سینٹ میں پارلیمانی رہنما رضا ربانی نے کہا ہے ’صدام حسین کی پھانسی کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے‘۔

مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق نے اپنے ردعمل میں کہا ہے ’صدام حسین کی پھانسی سے عراق میں انتشار بڑھے گا اور امریکہ کے خلاف مزاحمت میں اضافہ ہوگا‘۔

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار یعقوب نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صدام کی عید کے روز پھانسی انسانی اقدار کے منافی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے ’صدام کی پھانسی سے عراق کے لوگوں میں ایک دوسرے سے نفرتیں بڑھیں گی‘۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل زاہد خان نے کہا ہے کہ صدام کی پھانسی سے عراق تقسیم ہوجائے گا۔ یہ ٹرائل بین الاقوامی عدالت میں ہونا چاہیے تھا۔

متحدہ مجلس عمل کے چیئرمین اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے معزول عراقی صدر صدام حسین کی پھانسی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدام کو عید کے روز سزائے موت دے کر امریکہ نے عراق کے اندر شعیہ سنی فسادات کو ہوا دینے کی سازش کی ہے۔

عراق میں فرقہ واریت بڑھنے کا اندیشہ ہے

قاضی حسین احمد نے کہا ہے امت مسلمہ کو امریکہ کی سازش ناکام بنانے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عراقی قانون کے مطابق کسی مجرم کو عید اور حج کے روز تختہ دار پر نہیں لٹکایاجا سکتا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا امریکہ شعیہ سنی فسادات کو مزید ہوا دے کر عراق کو مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتا ہے اور اس منصوبے کو دوسرے ملکوں تک پھیلانا چاہتا ہے۔

نیوکلیائی ہتھیاروں کے خلاف امن تحریک کے سرگرم رکن پرویز ہود بھائی نے کہا ہے کہ عراق کے اندر دراڑیں مزید گہری ہو جائیں گی اور عراق میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔

کراچی میں عوامی ردعمل
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی کی سزا پر کوئی شدید رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا، ماضی میں عراق پر حملہ کے خلاف شہر میں بڑے احتجاجی جلسے جلوس کئے گئے تھے اور صدام حسین نے ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کرلی تھی، جن کی بڑی تعداد میں تصویریں دکانوں، بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر سجائی گئیں تھیں۔

نہ ہمارا، نہ تمھارا
 وہ نہ ہمارا ہے نہ تمہارا ، ایسا آدمی کسی کا نہیں ہوتا، نہ مزدور کا نہ مسلمان کا نہ ہی کافر کا۔
ایک مزدور

تمام اخبارات میں آج صدام حسین کی پھانسی کی خبر شہ سرخی تھی۔

پھانسی سے ایک دن قبل لوگوں کے ایک گروہ نے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ جبکہ امریکی پالیسیوں کی روایتی حریف مذہبی جماعتوں کی طرف سے کوئی سخت رد عمل نظر نہیں آیا۔

صدام کی پھانسی کا فیصلہ درست تھا یا نہیں اس بارے میں بھی ملا جلا رد عمل پایا جاتا ہے۔

ایک شہری عبدالرؤف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کو درست قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ صدام نے اگر ایک بھی انسان کو قتل کیا تھا تو بھی یہ انسانیت کا قتل ہے، ان پر تو قتل کے بےشمار الزامات تھے۔

انہوں نے کہا کہ صدام کا ٹرائل پتہ نہیں کس طرح سے ہوا مگر جو انسان کرتا ہے اس کو اس کا پھل تو ملنا چاہئے اگر ایسا نہیں ہوا تو سب لوگ اسی کی پیروی کریں گے۔

ایک مزدور عبدالوسع کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی باتیں ہیں جن سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ چاہئے پھانسی ہو یا اور کوئی سزا انہیں تو مزدوری کرنی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’وہ نہ ہمارا ہے نہ تمہارا ، ایسا آدمی کسی کا نہیں ہوتا، نہ مزدور کا نہ مسلمان کا نہ ہی کافر کا۔‘

غلطیاں۔۔۔
 انہوں نے غلطیاں کی ہونگی مگر عراق میں اتنی تباہی نہیں تھی جیسی اب ہو رہی ہے۔
ایک بزرگ

مگر دکاندر محمد ارشد کہتے ہیں کہ صدام کو پھانسی کے بجائے عمر قید کی سزا دینی چاہئے تھی، اس فیصلے سے مسلمانوں میں غصے کی لہر اور دوڑے گی جو کچھ دنوں تک چلے گی پھر آہستہ آہسیہ خود ٹھنڈی ہوجائے گی۔

سرکاری ملازم داؤد سعید نے فیصلے کو درست قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ صدام اپنے کیفر کردار تک پہنچا ہے اس نے بہت ظلم کئے تھے، اس کی اسے سزا ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدام حسین کسی طرح بھی ایک اچھا مسلمان نہیں تھا، اس نے ایران کو ایک غیر ضروری جنگ میں الجھائے رکھا، اور سینکڑوں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے، اس نے اسلام سے بھی غداری کی۔

طالب علم فراز احمد سمجھتے ہیں کہ صدام کو دنیا میں سزا مل چکی تھی مگر اس نے اتنے بھی ظلم نہیں کئے تھے جو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ ان کے مطابق اس سے عراق اور مسلم دنیا پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔

ایک بزرگ محمد مبین، صدام کو ایک اچھا رہنما سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے غلطیاں کی ہونگی مگر عراق میں اتنی تباہی نہیں تھی جیسی اب ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل بدمعاش اور دہشت گرد تو امریکہ خود ہے، صدام حسین نہیں تھے۔

محمد سلیم خان کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان تو دوسرے کی موت پر خوش ہوتا ہی نہیں ہے، مسلم امہ کے جتنے بھی سربراہان ہیں، اس کو دیکھیں یہ کوئی خوشی کا مقام نہیں ہے۔

نجی کمپنی میں ملازمت کرنے والے محمد جمیل اصغر کے مطابق آج صدام کے ساتھ جو ہوا ہے، کل ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم سب کے گلے میں اس طرح کے پھندے آسکتے ہیں۔

انہوں نے صدام پر عائد الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ایک پالسیی کے تحت مسلمانوں پر جال بچھایا دیا گیا ہے، جس میں مسلمان پھنستے رہیں گے اور لیڈر کو پھانسی دیتے رہیں گے۔

محمد علیم کا ماننا ہے کہ انہوں نے خود ہی ثبوت تلاش کئے، خود ہی فیصلہ سنایا اور خود ہی صدام کو پھانسی دے دی، ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ اچھا نہیں ہوا ہے۔

محمد فہد کا کہنا ہے کہ یہ انگریزوں کی ایک چال ہے کہ اگر نئے سال کا مسلمانوں کو ایسا تحفہ دیں تو ان میں کوئی طاقت ہے یہ بول بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ اس وقت مسلمانوں میں یکہجتی کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
صدام حسین: سوانحی خاکہ
30 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد