صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق چھ بجے سے کچھ دیر قبل پھانسی دے دی گئی۔ عراق کے قومی سلامتی کے مشیر موفق الربيعی نے جو صدام حسین کی پھانسی کے دوران وہاں موجود تھے کہا کہ صدام حسین کو دن چڑھنے سے پہلے پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور ان کی پھانسی کی ویڈیو بھی بنائی گئی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ صدام حسین کو ہتھکڑیاں لگا کر کر تختہ دار کی طرف خاموشی سے لایا گیا، ان کے ہاتھ میں قرآن مجید تھا اور وہ ایک شکست خوردہ انسان لگ رہے تھے۔
انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی تاہم سر پر کالا کپڑا پہننے سے انکار کر دیا۔ عراق کے سرکاری ٹیلی وژن ’عراقیہ‘ نے صدام حسین کی پھانسی کے خبر دیتے ہوئے اعلان کیا: ’مجرم صدام حسین کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا ہے‘۔ ٹی وی نے کہا ہے کہ انہتر سالہ معزول صدر کی پھانسی سے عراق کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ صدام کے ساتھ جن دو افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی ان کی سزا پر عملدرآمد بعد میں کیا جائے گا۔ ایک عراقی اہلکار کے مطابق صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی اور ایک سابق جج اواد البندر کو عید الضحیٰ کے بعد اگلے ہفتے پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ صدام حسین کو پانچ نومبر کو انیس سو بیاسی میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کو دجیل میں ہلاک کرنے کے حکم کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کے خلاف ان کی اپیل بھی مسترد ہوگئی تھی۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ آیا صدام حسین کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کی گئی ہے یا نہیں۔ سابق عراقی صدر کی بیٹی نے درخواست کی تھی کہ ان کے والد کو امانتاً یمن میں دفن کیا جائے۔ صدام حسین کی دو بیٹیاں اردن میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق دونوں بہنیں اپنے والد کی موت پر انتہائی دکھی تھیں، لیکن انہیں اس بات پر فخر تھا کہ انہوں نے (صدام حسین) تختہ دار پر بڑی استقامت کے ساتھ جلادوں کا سامنا کیا۔ عراقی صدر کو عراقی ملٹری انٹیلیجنس کمپلیکس میں پھانسی دی گئی جو اب امریکی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی کے ایک حلیف نے بتایا کہ صدام حسین کی پھانسی کی فلم بنائی گئی ہے
عراق اور بالخصوص بغداد میں ممکنہ ردِ عمل کے پیشِ نظر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ صدام حسین کے آبائی قصبے تکریت میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نمائندے پیٹرگرسٹ کا کہنا ہے کہ عراق کی شیعہ آبادی نے اس پھانسی کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے صدام دور میں ہونے والے مظالم کا بدلہ قرار دیا ہے تاہم عراقی سنّیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بش انتظامیہ اس پھانسی کو عراق کی ایک جمہوری حکومت کے خودمختار فیصلے کے طور پر پیش کر رہی ہے اور امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ’صدام کی پھانسی عراق کے لیے ایک ہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدام کو وہ انصاف ملا جس سے انہوں نے اپنے عہد میں اپنے مخالفین کو محروم رکھا‘۔
صدام حسین کی پھانسی پر برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انہیں عراقی عوام کے خلاف کیے گیئے جرائم کی سزا ملی ہے۔ اپنے بیان میں مارگریٹ بیکٹ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت عراق یا کہیں بھی سزائے موت دیے جانے کی حامی نہیں لیکن وہ ایک خودمختار قوم کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے اپنے بیان میں عراقی عوام سے کہا ہے کہ’وہ مستقبل کی فکر کریں اور باہمی رواداری اور قومی اتحاد کے حصول کے لیے کام کریں کیونکہ ان کا اصل مقصد مکمل خودمختاری اور استحکام کی جانب لوٹنا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’پھانسی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے‘30 December, 2006 | آس پاس ’پھانسی کے ردعمل کے لیے تیار رہیں‘30 December, 2006 | آس پاس صدام:’فیئر ٹرائل نہیں ہوا‘29 December, 2006 | آس پاس صدام: ’پھانسی آج رات یا پھر کل‘29 December, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس ’صدام نے ہلاکتوں کا اعتراف کرلیا ہے‘07 September, 2005 | آس پاس صدام کی وکیلوں سے جراح: ویڈیو دیکھیں13 June, 2005 | آس پاس قذافی کی بیٹی، صدام کا دفاع 03 July, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||