BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 16:32 GMT 21:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہماری فتح تاریخی ہے: نصراللہ
نصراللہ
جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ تنظیم کے سربراہ منظر عام پر آئے
جمعہ کے روز بیروت میں حزب اللہ کی ایک بہت بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نصراللہ نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی کے خلاف ایک تاریخی جنگی فتح حاصل کی ہے۔

جولائی میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ تنظیم کے سربراہ منظر عام پر آئے۔

جنوبی بیروت کے اس علاقے میں جس پر اسرائیل نے شدید بمباری کی منعقد کی جانے والی اس ریلی میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی جو سبز اور ہرے رنگ کے پرچم اٹھا ہوئے تھے اور فتح کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔

جنوبی بیروت جمعہ کے روز بیروت میں حز ب اللہ نے ایک ریلی منعقد کی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی جس کا مقصد حزب اللہ کے بقول اسرائیل کے خلاف اس کی فتح کا جشن منانا تھا۔

ریلی میں شرکت کرنے پر لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے بعد شیخ حسن نصرا للہ نے نعروں کی گونج میں کہا ’ہمارا یہاں جمع ہونا خطرے سے خالی نہیں‘۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ جنگ کے دوران اسرائیل انہیں نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ انہوں نے جنگ کے دوران لبنان کے لوگوں کے جذبے کی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف ڈٹے رہیں۔

شیخ حسن نصرا للہ نے کہا کہ حزب اللہ نے دنیا کی ایک طاقتور ترین فوج کے خلاف جنگ لڑی اور اسی فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جو لبنان، فلسطین اور تمام عرب دنیا کے لیئے ہے۔ تاہم انہوں نے عرب رہنماؤں پر تنقید بھی کی اور کہا کہ جب اپنے تخت اور قومی مفادات کے درمیان فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو عرب رہنماؤں نے اپنے تخت کا انتخاب کیا۔

پانچ ہفتے جاری رہنے والی جنگ کے نتائج کو حزب اللہ ’خدا کی طرف سے فتح‘ قرار دیتی ہے۔

چودہ اگست کو ہونے والی جنگ بندی سے پہلے اسرائیل کے ایک سو سولہ فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے تینتالیس عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

لبنان کے وزیر اعظم فواد سینورا سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں ریلی میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

پانچ ہفتے کی بمباری کے باوجود اسرائیل اپنے بیان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ لبنان پر اس کے حملوں کے مقاصد حزب اللہ کو سرحدی علاقوں سے بے دخل کرنا، اس کی طرف سے راکٹ حملوں کا خاتمہ اور حزب اللہ کی قید سے اپنے دو فوجیوں کو چھڑانا تھے۔

جنگ کے نتائج کو حزب اللہ ’خدا کی طرف سے فتح‘ قرار دیتی ہے۔

حز ب اللہ کی ریلی کے بارے میں توقع تھی کہ یہ اسی دن ہوگی جب جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجوں کا انخلاء مکمل ہو گا لیکن جمعہ کو ہی اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے کچھ فوجی یہودی کیلینڈر کے نئے سال شروع ہونے کی وجہ سے اس اتوار تک واپس نہیں جا سکیں گے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسپن تھورولڈ کے مطابق ریلی کے مقام کے ارد گرد کی سڑکوں اور گلیوں میں سکیورٹی نہایت سخت تھی۔ حز ب اللہ کے کارکن علاقے میں داخل ہونے والے ہر آدمی پر نظر رکھنے کے علاوہ ارد گرد کی عمارتوں کی چھتوں پر بھی پوزیشنیں سنبھالے ہوئے تھے۔

شہریوں کا قتلِ عام
حزب اللہ پر لڑائی میں جنگی جرائم کا الزام
حزب اللہ: اگلا قدم ؟
آنے والے ہفتوں میں اہم ترین سوال یہی ہوگا
مشرق وسطیٰ کا بحران
تباہی کے باوجود حزب اللہ کے جنگجو مضبوط
اسی بارے میں
حزب اللہ کا اسلحہ خانہ
04 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد