حزب اللہ کا اگلا قدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عسکریت پسند شیعہ مسلمان تحریک حزب اللہ، لبنان کی کثیرالعقیدہ حکومت کی رکن ہونے کی حیثیت سے، شمالی لبنان سے اپنی مسلح کارروائیاں ختم کرنے کی پانبند ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک کے بعد ایک قراردادیں اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑتیں کہ حزب اللہ کے لیئے جنوب پر اپنا کنٹرول ختم کرنا ضروری ہے اور اسرائیل کی شمالی سرحد لبنان کی حکومتی فوجوں اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے حوالے کر دینی ہے۔ لیکن ایک چیز جو قرارداد 1559، 1655 اور اب قرارداد 1701 سے واضح نہیں ہوتی وہ یہ ہے کہ حزب اللہ آخر کار جنوبی لبنان سے نکلے گی کیسے۔ حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیئے کہا جا رہا ہے۔ سنہ دو ہزار میں اس کے جنگجؤوں کو یہ اعزاز ملا کہ انہوں نے شمالی لبنان پر اسرائیل کا اٹھارہ ماہ تک جاری رہنے والا خونریز قبضہ ختم کرایا تھا۔ سنہ دو ہزار چھ کے موسم گرما میں ایک بار پھر انہوں نے خطے کی فوجی سپر پاور کو اپنی کارروائیاں روک دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ چھ سالوں کے درمیان شمال کی عیسائی اکثریتی آبادی کے ساتھ جس فراخدلی کا مظاہرہ حزب اللہ نے کیا ہے اس نے اسکی حمایت میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ بات اس لحاظ سے مزید اہم ہو جاتی ہے کہ ان عیسائیوں کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ان کا اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے خلاف حالیہ مسلح مزاحمت نے بھی عیسائیوں میں حزب اللہ کو مقبول تر بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے حامیوں کی بڑی تعداد کے خیال میں حزب اللہ کو اس علاقے کی زمین کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا حق حاصل ہے کیونکہ اس کو آزاد بھی اسی نے کرایا اور اب کسی کی معاونت کے بغیر اس کے تحفظ کی ضمانت بھی یہی تنظیم دیتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ دیگر لبنانیوں میں سے کئی کو ان ہلاکتوں اور اس تباہی پر غصہ بھی ہے جس کا آغاز حزب اللہ کے ایک چھاپہ مار کارروائی میں دو اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے سے ہوا۔ کچھ لبنانی حزب اللہ پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے اسرائیل کو لبنان پر وسیع پیمانے پر بمباری کرنے کا جواز دے کر ملک کو ایک غیرضروری صورتحال سے دوچار کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ حزب اللہ اور اس کے ہردلعزیز رہنما حسن نصراللہ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ ایک جانب تو وہ خود کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی علاقہ چھوڑنے کی بات پر قائم ہیں لیکن دوسری طرف ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ علاقے میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔ اگر اس کی عسکری طاقت کو دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جب تک لبنان میں قومی سطح پر کوئی سیاسی معاہدہ نہیں ہوتا حزب اللہ غیر مسلح نہیں ہوگی۔ اس قسم کے معاہدے کے عوض حزب اللہ اسرائیل سے مزید رعایتوں کے لیئے بھی کہہ سکتا ہے۔ مثلاً قیدیوں کی رہائی اور شیبا فارمز کے علاقے کی واپسی۔ شیبا فارمز کے بارے میں لبنان کا کہنا ہے کہ اس پر اس کا حق ہے لیکن اسرائیل کا (جس کو اس معاملہ پر اقوام متحدہ کی حمایت بھی حاصل ہے) کہنا ہے کہ یہ علاقہ دراصل گولان کی پہاڑیوں میں شامل ہے جو اُس نے شام سے چھینی تھیں۔ اس کے علاوہ دو اسرائیلی فوجی ابھی تک حزب اللہ کے قبضے میں ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ پر بمباری کا مقصد ان قیدیوں کی رہائی تھی۔ بیروت میں ابتدائی آثار سے لگتا ہے کہ حزب اللہ کا آگے کا سفر اتنا آسان بھی نہیں ہوگا۔ حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اتوار کو کابینہ کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی جس میں فائر بندی کا معاملہ زیر بحث آنا تھا۔ حزب اللہ کو بہرحال برتری حاصل ہے کیونکہ اس کے عسکری بازو نے اسرائیل کے خلاف فتح حاصل کی ہے۔ تنظیم کے فلسفے کے مطابق، جو کہ جذبہ شہادت کے ارد گرد گھومتا ہے، جنگ بذات خود ایک فتح ہے۔ اسرائیل کے انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کے خلاف چار ہفتے تک ڈٹے رہنا خود اپنے اندر ایک فتح ہے۔ حزب اللہ کی طاقت ایک طرف لیکن دوسری جانب امریکہ کی کھلی اور برطانیہ کی ڈھکی چھپی حمایت کے ساتھ اسرائیل بھی ڈٹا ہوا ہے کہ وہ حزب اللہ کو جنوب میں پہلے جیسا اثر و رسوخ حاصل نہیں کرنے دے گا۔ فی الحال اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کی بیرونی مدد روکنے کے لیئے لبنان کی بری، بحری اور فضائی ناکہ بندی جا ری رکھےگا۔ حاصل بحث یہ کہ مستقبل میں مسلح تنازعہ کے لیئے ایندھن موجود ہے اور اس پر اقوام متحدہ کی قرارداد سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے جا رہا۔ جنگ بندی سے پہلے آخری گھنٹے کے دوران بھی حزب اللہ کے جنگجو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر رہے تھے اور شمالی اسرائیل پر کٹوشا کی شکل میں موت اور تباہی بھی برسا رہے تھے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حالیہ اسرائیلی بمباری میں حزب اللہ کے کتنے چھاپہ مار ہلاک اور کس قدر اسلحہ تباہ ہو چکا ہے اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب اگلے ہفتوں اور مہینوں میں تلاش کیا جاتا رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||