جنگ بندی: اسرائیل میں گرم جوشی کا فقدان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے بیشتر اخبارات نے اقوام متحدہ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی قرار داد پر کسی خاص گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ اخبارات میں سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مایوسی کے علاوہ اسرائیل کے سیاسی رہنماؤں اور فوج کے افسران اعلیٰ کے حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے بارے میں حکمت عملی اختیار کرنے کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ صرف ملک کے مقبول روزنامے یئدیوت اہارونوٹ نے ہی اقوام متحدہ کی جنگ بندی سے متعلق قرارداد کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے ایک بے مثل سیاسی فتح سے تعبیر کیا ہے۔ کیرولائن گلیک، یروشلم پوسٹ: قرارداد صحیح معنوں میں حزب اللہ اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ممالک ایران اور شام کی فتح کی عکاسی کرتی ہے اور اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ کی انوکھی شکست کو ظاہر کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ قرارداد اور اس کے اطلاق سے یہ بات ظاہر ہے کہ اسرائیل کے دشمن جو کہ کافی تعداد میں ہیں یہ نتیجہ نکالیں گے کہ اسرائیل میں دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی طاقت موجود نہیں ہے۔ یہ جنگ، جو ہمارے رہنماؤں کے نزدیک اسرائیل کے مزاحمتی تشخص کی بحالی سے متعلق تھی، نے ایک ماہ کے اندر ہی اس تشخص کو تباہ کر دیا ہے۔ یئدیوت اہارونوٹ: سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 اسرائیل کی ایک یہودی ریاست کے طور پر بڑی بے مثال کامیابی ہے۔ شاید تاریخ کی سب سے نمایاں کامیابیوں میں سے ایک۔ اس کا خلاصہ ایک جملے میں یوں کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اور دنیا حزب اللہ کے خلاف ہے۔ جیکی ہوگی، معاریو: بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ قرارداد اسرائیل کی فتح ہے درحقیقت اسرائیل چند ماہ یا شاید سال کے اندر ہی حزب اللہ کے حملوں کے خوف کاازسر نو شکار ہو جائے گا جو اقوام متحدہ کی آڑ میں سرحد پر اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ ناہم برنیا، یئدیوت اہارونوٹ: جنگ بندی کا اعلان یہودیوں کے خلاف سرکاری طور پر جنگ شروع کرنے کے مترادف ہےآ اس بار یہ سب کے خلاف ایک جنگ ہو گی۔: حکومت فوج کے جنرل سٹاف کے خلاف، وزیراعظم ایہود اولمرت وزیر دفاع کے خلاف، ایک فوجی جنرل دوسرے کے خلاف اور کابینہ کے وزیر دوسرے وزیر کے خلاف اور موجودہ حکومت آنے والوں کے خلاف ہے۔ ایک کان میں یہ آواز آ رہی ہے کہ اسرائیل نے سلامتی کونسل کی جبگ بندی سے متعلق قرار داد مان لی تو دوسرے کان میں یہ آواز کہ سیاسی رہنماؤں نے فوج کو بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن کی منظوری دے دی، کنفیوزن! انتشار، غیریقینی یہ سب الفاظ عوامی احساسات کی ترجمانی کرسکتے ہیں۔ ہارٹز کا اداریہ: دو عمل، سفارتی اور فوجی، ایک دوسرے کا جزو تصور کیے جاتے ہیں لیکن اس پیدا ہونے والے تضاد پرحاوی ہونے کے لیے اعلیٰ درجے کی ایک ایسی قیادت اور سفارت کاری چاہیے جو اس تنازعے کے حل کے لیے ضروری ہے۔ اس بحران کے دوران نہ تو حکومت اورمحمکہ دفاع اور نہ ہی کمانڈروں کی جانب سے سفارت کاری اور قیادت کے اس درجے کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ | اسی بارے میں ’غیر مسلح کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘13 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی قرارداد منظور: اسرائیلی کابینہ 13 August, 2006 | آس پاس ’طیارے سازش‘ کے ایک ملزم کی رہائی12 August, 2006 | آس پاس لڑائی میں تیزی،ہیلی کاپٹر تباہ،11 فوجی ہلاک12 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||