BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 August, 2006, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ بندی قرارداد منظور: حملے شدید

تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پندرہ لبنانی شہری ہلاک بتائے جاتے ہیں
اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے کے بعد بھی لبنان پر اسرائیل کے شدید حملے جاری ہیں۔

لبنانی کابینہ کا اجلاس کسی فیصلے کے بغیر ملتوی ہوگیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کابینہ اس معاملے پر متفق نہیں ہے کہ حزب اللہ کوغیر مسلح کیسے کیا جائے۔

اسرائیلی کابینہ کا اجلاس کم از کم چوبیس گھنٹے کے لیےملتوی کر دیا گیا ہے۔ لبنانی کابینہ میں اختلافات کے بعد لبنانی وزیر اعظم فواد سینورا کو امریکی صدر جارج بش، وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس، فرانس کے صدر یاک شیراک، مصری صدر حسنی مبارک، اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے فون کیا۔

جبکہ اسرائیلی کابینہ نے رسمی طور پر اس قرارداد کو تسلیم کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کر دی ہے لیکن اس کی بری فوج دریائے لیطانی تک رسائی حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے جب کہ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان پر ایک سو سے زیادہ حملے کیے ہیں جن میں کم از کم پندرہ شہری ہلاک بتائے جاتے ہیں۔ جنوبی بیروت پر اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کی وجہ سے گیارہ رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں جن میں کم از کم بیس افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کےمطابق حزب اللہ اپنی جانب سے بھرپور مزاحمت کر رہی ہے اور اتوار کو اس کی جانب سے شمالی اسرائیلی پر دوسو پچاس سے زائد راکٹ داغے گئے ہیں۔جن کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک بتایا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریق یہ تہیہ کر چکے ہیں فائر بندی شروع ہونے سے پہلے ان سے جو کچھ بن پڑتا ہے وہ کرگزریں گے۔

اس سے قبل ملنے والی اطلاعات میں اسرائیلی کابینہ نے لبنان میں جنگ بندی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر1701 کی رسمی قبولیت کا اعلان کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ زپی لیونی نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اگر اس قرارداد پر مکمل عمل ہوا تو یہ اسرائیل کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو اسرائیلی فوجیوں کی رہائی صرف فوجی ذرائع کے استعمال سے ممکن نہیں اور اس سلسلے میں سیاسی کوششیں کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پیر کی صبح گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق پانچ بجے عمل میں آ جائےگی اور یہ فیصلہ اسرائیل اور لبنان کے وزرائے اعظم کے مشورے سے کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرت کابینہ کے اجلاس میں

اس دوران لڑائی کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ جنوبی بیروت پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور شہر میں وقفے وقفے سے بیس دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کی وجہ سے بیروت کے جنوبی حصے پر دھوئیں کے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔

ہفتے کی رات سے لے کر اب تک اسرائیل نے لبنان پر پچاس کے قریب فضائی حملے
کیئِےہیں جن کے نتیجے میں کم از کم آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کی صبح جنوبی لبنان کے شہر طائر پر فضائی حملے میں ایک چار منزلہ عمارت تباہ ہوگئی۔ حملے کے نتیجے میں تین بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فضائی حملوں میں طائر کے تقریباً تمام پٹرول پمپس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ وادی بقا کے قصبے النہری پر حملے میں بھی تین شہری ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ لبنان شام سر حد پر لبنانی فوجی گاڑی پر حملے میں دو لبنانی فوجی زخمی ہوگئے۔

اس دوران حزب اللہ نے اسرائیل کے تین ٹینک اور دو بلڈوزر تباہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے جبکہ اسرائیل پر اتوار کو ایک سو دس راکٹ فائر کیئے گئے ہیں جس سے ایک اسرائیلی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

 لبنان میں جنگ بندی پیر کی صبح گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق پانچ بجے عمل میں آ جائےگی اور یہ فیصلہ اسرائیل اور لبنان کے وزرائے اعظم کے مشورے سے کیا گیا ہے۔
کوفی عنان

گزشتہ روز سے اب تک کی لڑائی میں انتیس اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے ایک خاتون فوجی سمیت پانچ فوجی اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر حزب اللہ کے حملے کا نشانہ بنے۔

ادھر لبنانی وزیراعظم فواد سنیورا نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد جنوبی لبنان میں امن دستوں اور لبنانی فوج کے علاوہ کوئی مسلح گروہ نہیں رہے گا اور دریائے لیطانی سے جنوب کے علاقے کو غیر فوجی علاقہ بنا دیا جائےگا۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی واپسی تک جنگ جاری رہے گی اور اسرائیل امن فوج کی تعیناتی تک علاقے سے اپنی فوج نکالنے پر تیار نہیں ہے۔

اس دوران ایک سرکردہ اسرائیلی اخبار حارتز کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے دو فوجیوں کے عوض حزب اللہ کے قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے لئے آمادہ نظر آتی ہے۔ ایک اسرائیلی فوجی کو جنوبی لبنان میں جاری کارروائی میں شمولیت سے انکار پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور حیفہ کے نزدیک فوجی جیل کے باہر جنگ مخالف افراد نے اس فوجی کی رہائی کے لیئے مظاہرہ کیا ہے۔

بیروت کی بندرگاہ پر اتوار کو اقوامِ متحدہ کے دو چارٹر کردہ بحری جہاز لنگرانداز ہوئے ہیں جن میں ہزاروں ٹن خوراک اور امدادی سامان کے علاوہ ایک سو ساٹھ ٹن پٹرول بھی ہے جسے لبنان کے ہسپتالوں کے جنریٹروں کو رواں رکھنے میں استعمال کیا جائے گا۔

کوفی عنانقرارداد کہتی کیا ہے؟
سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا پورا متن
لبنان پر قرارداد
امریکہ اور فرانس میں اتفاق، اختلافات
خوش آمدید
شامی لبنانی مہاجرین کی مہانداری میں پیش پیش
تھکا ہوا بیروت
چہروں پر تناؤ، خوف اور تھکاوٹ کے تاثرات
احمد کمال احمد کمال کا تجزیہ
اسرائیل کا مفاد جنگ میں ہے امن میں نہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد