متن: اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے جمعہ گیارہ اگست کو قرارداد 1701 مکمل اتفاق رائے سے منظور کی ہے۔قرارداد کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازعہ کو ختم کرنا ہے۔ قرارداد کا مکلمل متن درج ذیل ہے۔ سکیورٹی کونسل، اعادہ کرتی ہوئی لبنان پر اپنی تمام سابقہ قرارداوں کا، خاص طور پر قرار 425 (1978) ، 426 (1978)، 520 (1982)، 1559 (2004)، 1655 (2006)، 1680 (2006) اور 1697 (2006) کا اور اور صدر کے تمام بیانات کا خاص طور پر 18 جون 200 ، 19 اکتوبر 2004، 4 مئی 2005، 23 جنوری 2006 اور 30 جولائی 2006 کے بیانات کا، اسرائیل پر حزب اللہ کے 12 جولائی 2006 کے حملے سے لبنان اور اسرائیل میں جاری جنگی کارروائیوں پر اپنی شدید پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے، ان کارروائیوں پر جن سے اب تک دونوں طرف سینکڑوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ہزاروں لوگ زخمی ہو چکے ہیں، شہری سہولتوں کا بہت نقصان ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ ملک کے اندر بےگھر ہو چکے ہیں، تشدد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، لیکن ساتھ ساتھ ان اسباب کو فوری حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جن کی وجہ سے موجودہ مسئلہ پیدا ہوا ہے، جن میں اغوا کیئے جانے والے اسرائیلی فوجیوں کی غیر مشروط رہائی بھی شامل ہے، قیدیوں کے مسئلے کی نزاکت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور اسرائیل میں قید لبنانی قیدیوں کے مسئلے کے فوری حل کے لیئے کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، لبنان کے وزیراعظم کی کوششوں اور لبنانی حکومت کے استقلال کو خوش آمدید کہتے ہوئے جس کے تحت وہ اپنے سات نکاتی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اپنی حاکمیت ملک کے تمام علاقے تک پھیلانا چاہتی ہے، اپنی جائز مسلح افواج کو یوں استعمال کرتے ہوئے کہ حکومت لبنان کی مرضی کے بغیر ملک میں کوئی ہتھیار نہیں ہو گا اور اس کی اپنی حاکمیت کے علاوہ کسی دوسرے کی حاکمیت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ حکومت لبنان کے اقوام متحدہ کی فوج (جس کی تعداد، اسلحے، دائرہ کار اور مقاصد بڑھائے جا سکتے ہیں) کی تعیناتی کے فیصلے کی تائید کرنے کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اور اس منصوبے میں لبنانی حکومت کی اس درخواست کو ذہن میں رکھتے ہوئے جس میں اس نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجوں کے فوری انخلاء کا کہا ہے، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجوں کے فوری انخلاء پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے، سات نکاتی منصوبے میں مذکور شیبا فارم کے علاقے کے بارے میں دی گئی تجاویز کو نوٹ کرتے ہوئے، اسرائیلی فوجوں کے بلیو لائن سے پیچھے ہٹنے پر لبنانی حکومت کے اپنی مسلح افواج کے پندہ ہزار اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کرنے کے سات جولائی کے فیصلے کی قدر کرتے ہوئے اورعلاقے میں اپنی فوجوں کی تعیناتی میں سہولت کی غرض سے ضرورت پڑنے پر اقوام متحدہ سے اضافی فوج طلب کرنے کے فیصلے کی بھی قدر کرتے ہوئے، اپنی ان ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے جو ایک مکمل جنگ بندی اور مسئلے کے دیرپا حل کے لیئے ضروری ہیں: 1) جنگی اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے، خاص طور پر حزب اللہ سے اپنے تمام حملے فوری طور پر روکنے کا اور اسرائیل سے تمام حملوں والی جنگی کارروائیاں روکنے کا 2) اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ جنگی کارروائیوں کے خاتمہ پر حکومت لبنان اور UNIFIL اپنی افواج کو جنوبی لبنان میں میں فوری طور پر تعینات کریں اور اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ جوں ہی ان فوجوں کی تعیناتی شروع ہو وہ اپنی فوجیں علاقے سے ہٹانا شروع کر دے۔ 3) سیکورٹی کونسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ لبنان کی حکومت ملک کے تمام علاقے پر اپنی ایسی حاکمیت قائم کرے کے لبنان میں حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی ہتھیار نہ ہوں اور کوئی دوسری اتھارٹی نہ ہو۔ 4) بلیو لائن کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیئے اپنی پوری حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ 5) 23 مارچ 1949 کے اسرائیل لبنان معاہدے میں زیر غور آنے والی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے لبنان کے سرحدی تحفظ، خود مختار حیثیت اور سیاسی آزادی کے لیئے اپنے تعاون کا مکمل اعادہ کرتی ہے۔ 6) بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ لبنان کے لوگوں کی معاشی اور انسانی مدد کے لیئے فوری اقدامات اٹھائے جس میں لبنان کی حکومت کے زیر اہتمام بےگھر لوگوں کی اپنے گھروں کو محفوظ واپسی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ لبنان کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو دوبارہ کھولنے میں بھی امداد کا مطالبہ کرتی ہے۔ 7) اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ تمام فریقین اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جو مسئلے کے دیر پا حل کی تلاش پر منفی انداز سے اثر انداز ہو، عام شہریوں کو انسانی مدد پہنچانے کے عمل کو متاثر کرے (اس میں امدادی قافلوں کو محفوظ راستہ دینا بھی شامل ہے)، بےگھر لوگوں کی محفوظ واپسی پر اثر انداز ہو۔ اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ ان امور میں فریقین اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کونسل سے تعاون کریں۔ 8) اسرائیل اور لبنان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ درج ذیل اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقل اور طویل المعیاد جنگ بندی کی حمایت کریں: ا۔ دونوں فریقین کی جانب سے بلیو لائن کا مکمل تقدس۔ ج۔ طائف معاہدے پر مکمل عملدر آمد جس میں کہا گیا تھا کہ لبنان میں لبنانی ریاست کی اپنی اتھارٹی اور ہتھیاروں کے علاوہ کوئی دوسری اتھارٹی یا ہتھیار نہیں ہوں گے۔ د۔ حکومت کی اجازت کے بغیر لبنان میں کوئی غیر ملکی فورسز نہیں ہو سکتیں۔ ر۔ لبنان کو کسی قسم کے ہتھیار سپلائی یا فروخت نہیں کیے جا سکتے ماسوائے ان کے جو لبنان کی حکومت خود منگوائے۔ د۔ اسرائیل وہ تمام نقشے اقوام متحدہ کے حوالے کرے گا جن میں لبنان میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی تفصیل ہے۔ 9) پیراگراف 8 میں وضع کیئےگئے اصولوں کے تحت مسئلے کے دیرپا حل کے لیئے سکیورٹی کونسل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مدعو کرتی ہے کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں سے اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کے لیے کہیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی کونسل خود بھی اس عمل میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ 10) سیکرٹری جنرل سے درخواست کرتی ہے کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی رہنماؤں کے تعاون سے ایسی تجاویز مرتب کریں جن سے معاہدہ طائف کی متعلقہ شقوں پر عمل ہو سکے۔ 11) UNIFIL کے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر پندرہ ہزار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس کے علاہ اس فوج کو دستیاب فوجیوں، ہتھیاروں، دائرہ کار میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا جاتا ہے تا کہ یہ فوج: ا۔ جنگی کارروائیوں کے خاتمے کی نگرانی کر سکے، 12) UNIFIL کو اجـازت دیتی ہے کہ وہ فوجوں کی تعیناتی اور دیگر امور میں ہر قسم کے ضروری اقدامات اٹھائے۔ 13) سیکرٹری جنرل سے درخواست کرتی ہے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کیئے جائیں جو یہ یقینی بنائیں کہ UNIFIL اپنے فرائض پوری طرح انجام دے سکے۔ 14) لبنان کی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے وہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنائے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی ہتھیار یا دوسرا متعلقہ سامان ملک کے اندر نہ آئے۔ 15) تمام اقوام ایسے اقدامات کریں کہ جن سے یہ یقینی ہو جائے کہ لبنان میں کسی بھی گروپ کو فوجی سامان، ہتھیار، بارود، فوجی گاڑیاں یا ان کے پرزے دستیاب نہیں ہوں گے۔ 16) UNIFIL کی معیاد 31 اگست 2007 تک بڑھاتی ہے اور بعد میں بھی اس میعاد میں اضافے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ 17) سیکرٹری جنرل سے درخواست کرتی ہے کہ وہ ایک ہفتے بعد اس قرارداد پر عمل درآمد کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کریں اور اس کے بعد بھی باقاعدگی سے رپورٹ دیتے رہیں۔ 18) مشرق وسطیٰ میں پائیدار ، دیرپا اور جامع امن کے حصول کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ 19) عہد کرتی ہے کہ اس معاملے میں مستعدی سے عمل کرتی رہے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||