’غیر مسلح کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان میں تعینات کی جانے والی اقوام متحدہ کی مجوزہ فوج کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا نہیں ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر خارجہ فلپ دوستیبلیزی نے یہ بات ’لی موندے‘ نامی اخبار کو ایک انٹرویو کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا: ’ہمارے خیال میں حزب اللہ کے مسئلہ کو فوجی طاقت کے ذریعے نہیں حل کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس پر تو متفق ہیں کہ ایسا ہونا چاہیئے لیکن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ صرف سیاست کے ذریعے‘۔ دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ لبنان کے تنازع کے لیئے منظور کی جانے والی قرار داد کے مؤثر ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں اس بارے میں واضح شق موجود نہیں ہے۔ فرانس اور اٹلی کے فوجی پہلے ہی لبنان میں موجود ہیں اور اب انہوں نے تصدیق کردی ہے کہ وہ لبنان میں تعینات کی جانے والی نئی امن فوج میں اہم کردار ادا کرنے کے لیئے تیار ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کی رو سے لبنان کے جنوب میں 15 ہزار فوجیوں پر مشتمل امن فوج تعینات کی جائے گی جو سیز فائر کروانے اور علاقے میں لبنانی فوج کا کنٹرول سنبھالنے میں اس کی مدد کرے گی۔ ان دو ممالک کے علاوہ جو ممالک اپنے فوجی لبنان بھیجنے پر غور کررہے ہیں ان میں ترکی، نیوزی لینڈ اور ملائیشیا شامل ہیں۔ | اسی بارے میں لبنان پراسرائیل کا گھیرا مزید تنگ21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل کا مقابلہ کریں گے: حزب اللہ سربراہ21 July, 2006 | آس پاس لڑائی میں تیزی،ہیلی کاپٹر تباہ،11 فوجی ہلاک12 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے جاری، کئی ہلاک، بجلی گھرتباہ12 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||