BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 August, 2006, 06:26 GMT 11:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غیر مسلح کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘
فرانس اور اٹلی امن فوج میں اہم کردار ادا کرنے کے لیئے تیار ہیں
فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان میں تعینات کی جانے والی اقوام متحدہ کی مجوزہ فوج کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا نہیں ہے۔


خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر خارجہ فلپ دوستیبلیزی نے یہ بات ’لی موندے‘ نامی اخبار کو ایک انٹرویو کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا: ’ہمارے خیال میں حزب اللہ کے مسئلہ کو فوجی طاقت کے ذریعے نہیں حل کیا جاسکتا ہے۔ ہم اس پر تو متفق ہیں کہ ایسا ہونا چاہیئے لیکن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ صرف سیاست کے ذریعے‘۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ لبنان کے تنازع کے لیئے منظور کی جانے والی قرار داد کے مؤثر ہونے کے لیئے ضروری ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد میں اس بارے میں واضح شق موجود نہیں ہے۔

فرانس اور اٹلی کے فوجی پہلے ہی لبنان میں موجود ہیں اور اب انہوں نے تصدیق کردی ہے کہ وہ لبنان میں تعینات کی جانے والی نئی امن فوج میں اہم کردار ادا کرنے کے لیئے تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کی رو سے لبنان کے جنوب میں 15 ہزار فوجیوں پر مشتمل امن فوج تعینات کی جائے گی جو سیز فائر کروانے اور علاقے میں لبنانی فوج کا کنٹرول سنبھالنے میں اس کی مدد کرے گی۔

ان دو ممالک کے علاوہ جو ممالک اپنے فوجی لبنان بھیجنے پر غور کررہے ہیں ان میں ترکی، نیوزی لینڈ اور ملائیشیا شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد