اسرائیلی حملے جاری، کئی ہلاک، بجلی گھرتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوری جنگ بندی کے لیے سکیورٹی کونسل میں قرارداد کی منظوری کے چند ہی گھنٹوں بعد ہفتے کو اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان حملوں میں کئی افراد کے ہلاک ہونے کے علاوہ سیدون کا بجلی گھر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہلاکتیں زیادہ تر جنوبی شہر طائر کے نواح میں واقع رشعف کے مقام پر ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لبنان میں زمینی حملوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی دستے جنگی اعتبار سے اہم علاقے یعنی دریائے لیطانی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی افواج کی تعیناتی سے پہلے حزب اللہ کو جس قدر نشانہ بنایا جا سکتا ہے بنایا جائے۔ شمالی اسرائیل سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی رات اسرائیلی ٹینک اور فوجی دستے طویل قطاروں میں سرحد عبور کر کے لبنان میں داخل ہوئے۔ جمعہ کو منظور کی جانے والی اقوام مرحدہ کی قرارداد میں ’ مکمل فائر بندی‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل حملوں میں کمی اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک اسرائیلی کابینہ میں اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹ نہیں ہو جاتا۔ کابینہ کا اجلاس اتوار کو ہوگا۔ سنیچر کوطائر کے علاوہ اسرائیلی طیاروں نے سیدون پر بھی چار فضائی حملے کیئے۔ اگرچہ گزشتہ کئی دنوں میں سیدون پر اسرائیل کا یہ دوسرا حملہ ہے لیکن اس حملے میں سیدون کا بجلی گھر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں قرارداد پر ووٹنگ سے چند ہی گھنٹے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے لبنان میں زمینی فوجی کارروائیوں میں اضافے کا حکم دے دیا تھا۔ حتیٰ کہ جب سفارتکار قرارداد کے مسودے کو حتمی شکل دے رہے تھے اسرائیلی ریڈیو نے بتایا تھا کہ فوجوں کو دریائے لیطانی تک کے علاقے کو اسرائیلی کنٹرول میں لانے کے احکامات مل چکے تھے۔ دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم فواد سینیورا کے مشیر نے بھی قرارداد پر قدرے محتاط تبصرہ کیا تھا جبکہ حزب اللہ کی طرف سے اس پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔اسرائیل اور لبنان کی اپنی اپنی کابینہ اس قرارداد پر سنیچر اور اتوار کو غور کریں گی۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار داد 1701 کو مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ اس میں مکمل جنگ بندی کی بات کی گئی ہے جس کے تحت لبنانی فوج حزب اللہ کے گڑھ جنوبی لبنان میں تعینات کی جائے گی اور لبنان میں موجود عالمی امن فوج کی مدد کے لیے پندرہ ہزار مزید فوجی لبنان جائیں گے۔ سکیورٹی کونسل کی قرار داد کے خاص نکات میں اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی ہوں گی۔لبنانی فوج اسرائیل کی سرحد کے ساتھ حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں تعینات کی جائے گی اور حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے شمال میں جانا ہو گا۔
لبنان کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے شیبا فارم سمیت تمام سرحدی تنازعوں کو طے کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نےاس بات پر سخت مایوسی کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ نے اس مقام تک پہنچنے کےلیۓ اتنا وقت کیوں لیا۔ انہوں نے کہا اقوام متحدہ جلد از جلد اقدام کرنے میں جس طرح ناکام رہی اس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے اختیار پر دنیا کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ یہ قرارداد ایسے پائیدار امن کا راستہ صاف کرے گی جس میں ایک نیا اور مضبوط لبنان ابھر سکے گا۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو تاریخ ساز موڑ قرار دیا۔ |
اسی بارے میں اسرائیلی بمباری، گیارہ شہری ہلاک11 August, 2006 | آس پاس لبنان: قصبے پر قبضہ، پیش قدمی مؤخر10 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ میں مایوسی کی فضا09 August, 2006 | آس پاس اسرائیل کا دریائے لیطانی تک پیش قدمی کا فیصلہ 09 August, 2006 | آس پاس رائٹرز کی تصویر پر تنازع08 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||