قرارداد: امریکہ اور فرانس کا اتفاق، اختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ اسکے سلامتی کونسل میں لبنان میں قراداد امن کے مسودے پر فرانس سے اختلاف پیدا ہوئے ہیں لیکن وہ انہیں کم کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ یہ بات امریکی محمکمہء خارجہ کے ایک سینئرعملدار شان مکورمیک نے بدھ کے روز واشنگٹن میں پریس بریفنگ میں بتائی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں لبنان اور اسرائيل کے درمیاں قرارداد امن کے مسودے کے دو کلیدی ممالک کے امریکہ اور فرانس کے درمیاں پیدا ہونیوالے اختلافات اور اسرائیل کی طرف سے لبنان میں زمینی حملے شدید اور وسیع کرنے کے اعلان کے بعد لبنان میں قیام امن کی کوششوں میں مزید تاخیر پیدا ہوجاۓ گي۔ اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کے مطابق نیویارک میں سلامتی کونسل میں عرب لیگ کے نمائندوں کے اعتراضات جن میں مسودے میں اسرائیلی فوجوں کی مکمل انخلا اور شیبا فارم سے اسرائیلی قبضے کےخاتمے کی شقین مسودے میں شامل کرنے کی مطالبات تھے، کو سننے کے بعد قرارداد کے مسودے کے دوسرے پیش کردہ ملک فرانس نے اسکی تائيد کی ہے اور اب وہ امریکہ سے ’مسودے کی زبان میں تبدیلی‘ چاہتا ہے۔ لیکن بدھ کے روز امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عملدار نے اپنی پریس بریفنگ میں بتایا کہ قرارداد کے مسودے میں فرانس سے اختلاف اوقات کار اور سلسلہء عمل (سیکوئنس) پر ہے کیونکہ امریکی انتظامیہ کا اصرار ہے کہ لبنان سے اسرائیلی فوج کا فوری انخلاء طاقت کا خلا پیدا کرے گا جس میں حزب اللہ خود کو پھر سے منظم کرلے گی۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لبنان سے اسرائیلی فوجوں کا فوری انخلاء اور وہاں بین الاقوامی فوج کا متعارف کروا نا جو اسرائیلی سرحد پر لبنانی فوج کی تعیناتی میں مددگار ہو وہ نکات ہیں جن پر اقوام متحدہ میں گزشتہ دنوں مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، جیسا کہ پہلے امریکی اور فرانسیسی نمائندے قرارداد کو رواں ہفتے میں پیش کرنے کوکہتے رہے تھے اب اسکے برعکس قرارداد میں تاخیر پیدا ہوگئي ہے جس کا مطلب لبنان اور اسرائیل میں قیام امن کے عمل میں مزید تاخیر ہے۔ بدھ کے روز میڈیا کے اراکین سے اپنی بریفنگ میں امریکی محکمہء خارجہ کے عملدار نے کہا اقوام متحدہ میں مذاکرات کے دوران امریکہ کا اصرار ہے کہ اسرائیلی فوجوں کا کسی بھی قسم کا انخلا کسی ’قوی ہیکل‘ بین الاقوامی فوج کی تعیناتی کے اتفاق سے حزب اللہ خون خرابہ نہیں پیدا کرسکے گی۔ انہوں نے کہا ’ہم اپنے اس اصولی موقف پر قائم ہیں کہ وہاں خلا پیدا نہیں کیا جا سکتا۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ ہرکوئی اس اس اتفاق کرتا ہے کہ اسرائيل کو حملے جنگ ختم کردینے چاہیے۔ اسرائیلی خود اس پر متفق ہیں، ہم کوئی چيز کے ہونے کو کسی بھی چيز کے نہ ہونے سے پر نہیں کرسکتے۔ اس سے وہ تمام عوامل واپس لوٹ آئيں گے جس سے دہشتگرد گروپ خطے کو مزید خون خرابے اور عدم استحکام میز دھکیل دیں گے۔ دوسری طرف فرانس کا موقف ہے کہ لبنان سمیت دنیا میں کوئي ایسا ملک نہیں جو اپنی خود اختیاری نہیں قائم رکھ سکتا اور حزب اللہ جیسے گروپوں کو غیر مسلح کر سکتا بشرطیکہ سب سے پہلے اسکی حدود میں مکمل خود مختاری کا احترام کیا جائے جو اسرائیلی فوجوں کے انخلا سے ہی ممکن ہے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ قرارداد کے مسودے پر فرانس او ر انکے درمیان اختلاف ضرور ہیں لیکن وہ انہیں کم کرنے کی کوششیں کررہے ہيں۔ اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے وفد نے بھی بدھ کے روز امریکہ کے مستقل نمائندے سفیر جان بولٹن سے ملاقات کی- انہوں نے بعد میں اقوام متحدہ میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد وہاں حزب اللہ کی دراندازی ہو۔ فرانس سے امریکی تعلقات پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’ہمارے فرانس کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں اور ہمیں بہت سے باتوں پر اتفاق ہے۔‘ پھر انہوں نے ازراہ تفنن کہا ’سوائے فرینچ مشن میں انکی کافی کے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||