حزب اللہ: لڑائی میں جنگی جرائم کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنشینل نے الزام لگایا ہے کہ حزب اللہ نے لبنان پر اسرائیلی حملے کے دوران بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ چونتیس دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں حزب اللہ نے دانستہ طور پر راکٹوں سے اسرائیل کے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جو کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنشینل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیل کولبنان میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے پر جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔ تنظیم نے اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں اطراف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف وزیوں کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی ہے۔ تنظیم کی اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ نے جان بوجھ کر اسرائیل کے شہریوں اور شہری تنصیبات کو بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنایا اور بغیر کسی امتیاز کے اندھا دھند راکٹ پھینکے اور ا س کے یہ دونوں اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی حصے میں کوئی چار ہزار کے قریب راکٹ پھینکے جن سے 43 شہری ہلاک ہوئے اور یہی نہیں بلکہ اس صورت حال کی وجہ سے ہزاروں افراد کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ہلاک کرنا اس کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے تاہم اس کے سربراہ حسن نصر اللہ کے بقول اسرائیلی حلموں کے نتیجے میں لبنانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد ان کی اس پالیسی میں تبدیلی آگئی۔
رپورٹ میں حسن نصر اللہ کے بیان کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’جب تک دشمن کسی حد کے بغیر اپنی جارحیت جاری رکھے گا تو اس وقت تک ہم بھی کسی حد کی پرواہ کیئے بغیر حملے کریں گے‘۔ ایمنسٹی انٹرنشینل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں کو وجہ بنا کر حزب اللہ کے اس عمل کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل ارینے خان کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کو شہریوں کی جان کے بدلے اس غیر قانونی عمل کی کسی طور اجازت نہیں تھی۔ تنظیم اس بارے میں چھان بین کے لیئے اقوام متحدہ سے ایک بھرپور، آزاد اور غیر جانب دار تحقیقاتی انکوائری اور لڑائی میں نشانہ بننے والوں کے لیئے معاوضے کا مطالبہ بھی تواتر سے کر رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس لڑائی کے ذمہ دار اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی کی تئیس اگست کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے اپنی اہم جنگی حکمت عملی کے دوران گھروں، پلوں، سڑکوں، پانی اور ایندھن کے پلانٹس کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا بلکہ جنگ کے دوران اس کی جانب سے وہی اقدامات اٹھائے گئے جو عمومًا کسی جنگ کے دوارن انجام دیئے جاتے ہیں اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھے۔ لبنان اسرائیل لڑائی میں تقریبًا ایک ہزار لبنانی شہری اور 161 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔ |
اسی بارے میں لبنان کے لیئے فوج بھیجنے کا وعدہ18 August, 2006 | آس پاس لبنان میں بھگوان23 August, 2006 | آس پاس لبنان میں امن فوج بڑھانے کی کوشش23 August, 2006 | آس پاس لبنان اسرائیل لڑائی: ناکامیوں کا اعتراف 24 August, 2006 | آس پاس لبنان: ’50 ملین ڈالر کی امداد درکار‘ 31 August, 2006 | آس پاس لبنان میں ایک اور پراسرار دھماکہ05 September, 2006 | آس پاس لبنان کی فضائی ناکہ بندی ختم06 September, 2006 | آس پاس لبنان، اسرائیل پیش رفت: عنان مطمئن13 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||