لبنان، اسرائیل پیش رفت: عنان مطمئن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی کے مطالبے کو بہت حد تک پورا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ابتدا ہو چکی ہے تو تصادم کے بنیادی اسباب کو طے کرنے کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ اسی کے ساتھ کوفی عنان نے کہا کہ لبنان میں سرکاری فوج کے سوا تمام گروپوں کو غیر مسلح کیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان سے اپنی فوج نکالنے میں خاصی پیش رفت دکھائی ہے اور اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی تعمیل کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چونتیس روز تک جاری رہنے والی لڑائی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں پھر سے عدم استحکام آ گیا ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا ہے کوفی عنان نے پیش رفت کے حوالے سے جو بات کی ہے اس سے ایک ملی جلی سی تصویر سامنے آتی ہے۔ اس رپورٹ میں جو کوفی عنان نے سلامتی کونسل کو پیش کی ہے کہا گیا ہے کہ جنگ کے بعد بہت کچھ ہونا باقی ہے اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ فریقین نے معاہدے کی پاسداری کی ہے۔ کوفی عنان نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر پر مجموعی طور پر عمل درآمد ہوا ہے تاہم انیس اگست کو اسرائیل نے مشرقی لبنان پر جو دھاوا بولا تھا وہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ کوفی عنان نے عندیہ دیا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ایک سیاسی عمل ہونا چاہیے اور لبنانی حکومت کی اتھارٹی بحال ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں کی بلا مشروط واپسی اور اسرائیل کی جیلوں میں لبنانی قیدیوں کا معاملہ بہت اہم ہے۔ | اسی بارے میں پائیدارامن کےراستے کھلیں گے: عنان28 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ خلاف ورزی:عنان20 August, 2006 | آس پاس لبنان: ’50 ملین ڈالر کی امداد درکار‘ 31 August, 2006 | آس پاس لبنان میں ایک اور پراسرار دھماکہ05 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||