BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 August, 2006, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پائیدارامن کےراستے کھلیں گے: عنان
عنان
عنان ان دنوں مشرق وسطیٰ کےدورے پر ہیں
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان عارضی جنگ بندی نے دونوں کے لیئے طویل المدتی جنگ بندی اور امن کا مو قع فراہم کیا ہے۔

بیروت میں مذاکرات کے بعد عنان نے کہا کہ تنازع سے متعلق سبھی فریقوں کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرنا ہے۔ لبنان میں جنگ بندی اقوام متحدہ کے ذریعہ قرارداد پاس کرنے کے بعد عمل میں آی تھی۔

بیروت ہوا ئی اڈے پر پہنچنے کے بعد کوفی عنان نے لبنانی وزیراعٰظم فواد سینیورا ،
لبنانی پارلیمان کے سپیکر اور حزب اللہ کے حلیف علی بیری سے ملاقات کی۔اس مذاکرات میں اقوام متحہ کے پندرہ ہزار امن افواج کی تعیناتی اور اس کے کردار پر بھی غور کیا گیا۔ امن افواج کو اقوام متحدہ کے تیار کردہ جنگ بندی فارمولے کے تحت تعینات کی جانی ہے۔

کوفی عنان ابھی اس خطے کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے کہا’ علی بیری نے مجھے بھروسہ دلایا کہ لبنان کے عوام اور حکومت اقوام متحدہ کےقراداد نمبر 1701 پر عمل درآمد کرنےکو تیار ہیں اور امید ہے کہ اسرائیلی حکومت بھی ایسا ہی کریگی‘۔

انہوں نے کہاکہ ’ اس ضمن میں کافی کام کیا جانا ہے اور اقوام متحدہ اس کے لیئے کوشاں ہے کہ قرارداد پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے‘۔ انہون نے کہا کہ ’ہمارے سامنے دیر پا امن اور جنگ بندی کے مواقع موجود ہیں‘۔

siniora
لبنان کے وزیر اعٰظم کا کہنا ہے کہ انہیں مذاکرات سے کافی امیدیں ہیں

لبنان کے وزیر اعظم نے کہا کہ’ ہم امید کرتے ہیں کہ اس مذاکرات کے اچھے نتیجے سامنے آئیں گے لیکن یہ سب چوبیس گھنٹے میں نہیں ہونے والا‘۔

فواد سینیورا نے کہا کہ کوفی عنان سے انہوں نے اسرائیل میں بندی بنائیے گئے لبنانی لوگوں کی رہائی کے علاوہ شیبا فارم، جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے اسے واپس کرنے سے متعلق بات بھی کی۔

لبنان کے دورے کے بعد عنان اسرائیل، شام، فلسطیں اور ایران بھی جائیں گے۔

اسرائیل کو توقع ہے کہ 12 جولائی کو اس کے جن دو فوجیوں کو حزب اللہ نے اغواکر لیا تھا انہیں واپس کر دیا جائےگا۔

اس سے قبل اتوار کو حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ بندیوں کی رہائی سے متعلق بات چیت کے لیئے رابطے کیئے جا رہے ہیں۔ ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ابھی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی لیکن اسرائیلی وزیر خارجہ تیزپی لیونی نے کہا کہ اس تنازع کا حل بندیوں کی واپسی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

برلن کے اپنے دورے کے دوران لیونی نے کہا جنگ بندی کا دارومدار ہمارے دو فوجیوں کی رہائی پر قائم ہے۔

اس بیچ ترکی کی پارلیمان نے سوموار کو امن فوج میں شامل ہونے کی منظوری دے دی ہے۔ اقوام متحدہ کو امید ہے کہ چند ہفتوں میں امن افواج وہاں پہنچنی شروع ہو جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد