لبنان کی تباہ حال معیشت کی بحالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد توجہ اب ملک کی تعمیر نو اور اس کام کے لیئے وسائل حاصل کرنے پر مرکوز ہو رہی ہے۔ جب لڑائی جاری تھی تو بہت سے عالمی رہنماؤں نے جنگ بندی کے بعد نہ صرف انسانی امداد بلکہ تعمیر نو میں بھی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اب انہیں یہ وعدہ کو پورا کرنے کےلیئے کہا جائے گا۔ تیونس کے صدر نے عرب رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے اور لبنان کی تعمیر نو کے لیئے اجتماعی کاوش پر زور دیا ہے۔ سویڈن نے اکتیس اگست کو امدادی اجلاس طلب کر کے جس میں ساٹھ ممالک اور امدادی تنظیموں کی شرکت متوقع ہے مغربی دنیا میں پہل کی ہے۔ ابھی تک لبنان میں تعمیر نو کے لیئے اخراجات کا معتبر تخمینہ موجود نہیں۔ لیکن ایک بات بہرحال سب کو معلوم ہے کہ انیس سو پچھتر اور انیس سو نواسی کے درمیان تعمیر نو کے لیئے پچاس ارب ڈالر لبنان میں سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں، سکولوں اور ہوائی اڈوں پر خرچ ہوئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر تعمیرات اب ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ کرسچن ایڈ کے گراہم مکے کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان اور بیروت کا وسیع علاقہ برابر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور ایک سو پچاس پُل تباہ جنہیں دوبارہ بنانے کے لیئے بہت پیسہ درکار ہے۔ لبنان کی حکومت کا اندازہ ہے کہ صرف ڈھانچہ دوبارہ بنانے کے لیئے ڈھائی ارب ڈالر چاہیں۔ اقتصادی اخراجات کے علاوہ تعمیر نو کے لیئے افرادی قوت کا حصول اور اس پر عملدرآمد کروانا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ اس کام کے لیئے توانائی درکار ہے لیکن بہت سے مقامات پر بجلی کی فراہمی ابھی بحال نہیں ہوئی۔ وسیع پیمانے پر تعمیر نو کے علاوہ فوری طور پر لوگوں کو ٹھہرانے کے لیئے مکانات اور عمارات کی تعمیر کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ لبنان میں معیشت کے وزیر نے کہا ہے دس لاکھ پناہ گزینوں میں سے ہر پانچواں شخص لڑائی کے دوران بے گھر ہوا ہے۔ گزشتہ چند ہفتے کے دوران لڑائی میں درجنوں فیکٹریاں تباہ ہوئی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار غائب ہیں۔ سیاحت کی صنعت سولہ لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی توقع کر رہی تھی لیکن اب اس کی بحالی کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لبنان پر پینتیس ارب ڈالر کے قرضے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو توقع ہے کہ انیس سو ستر کی دہائی کے اوائل کے دن واپس آ سکتے ہیں جب لبنان مشرق وسطیٰ میں بنکاری اور تجارت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ | اسی بارے میں ’امریکہ اسرائیلی منصوبےسےآگاہ تھا‘15 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ نے مارٹر فائر کیئے ہیں: اسرائیل 15 August, 2006 | آس پاس ’فتح‘ پر ایران اور شام کی مبارکباد15 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ: ابتدائی امن فوج کی کوشش15 August, 2006 | آس پاس ’الزامات کی جنگ‘ اسرائیل کی منتظر15 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||