’الزامات کی جنگ‘ اسرائیل کی منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب ایک اور جنگ اسرائیل کی منتظر ہے۔ کسی بیرونی طاقت کے ساتھ نہیں بلکہ اسرائیل کے اپنے اندر کی جنگ۔ بلکہ اس ’جنگ‘ کی پہلی جھڑپیں تو ابھی سے شروع بھی ہوگئی ہیں۔ اس کھینچا تانی سے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ جنگ ہے لبنان کے ساتھ جنگ کے الزامات کی جنگ۔ اس سے لبنان کے اندر لڑنے کے بارے میں بھی کئی سبق سیکھے جاسکیں گے۔ اس بحث مباحثے میں کئی اسرائیلی سیاسی اور فوجی رہنما متاثر ہوسکتے ہیں۔ اولمرت کے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے علاوہ اس سے اسرائیل کے لیئے مقبوضہ غرب اردن کے کئی علاقوں سے یہودی بستیوں کے انخلاء کا فیصلہ بھی ممکن ہے۔ لبنان کے ساتھ جنگ کے آغاز ہی سے اسرائیلی عوام حکومتی پالیسی کے بارے میں ابہام کا شکار تھی۔ سب سے پہلے حزب اللہ کے خلاف فضائیہ کے استعمال پر بھروسہ کیا گیا اور پھر کئی زمینی حملے کیئے گئے جس کے نتیجے میں کئی خونریز لڑائیاں ہوئیں تاہم سٹریٹجک صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آسکی۔ پھر قریباً ایک ماہ کی لڑائی کے بعد اقوام متحدہ کے حتمی قرارداد منظور کرنے تک اسرائیل نے ’آخری لمحے‘ کا استعمال کرتے ہوئے بڑے فوجی آپریشن کے ساتھ دریائے لیطانی کی طرف پیش قدمی کی۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں ’کیا صحیح ہوا اور کیا غلط‘ کے تجزیے پہلے ہی شروع ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ صرف آگے آنے والے اختلاف کی ابتدا ہے۔ اسرائیل میں ’قومی دھچکوں‘ کے بارے میں بحث مباحثوں، تجزیوں اور تحقیقات کی روایت پرانی ہے۔ اسی طرح کی ایک مثال 1973 میں قائم ہوئی تھی جب اسرائیل سپریم کورٹ میں ’اگرانات کمیشن‘ قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ یوم کِپُر جنگ پر شام اور مصر کے حملوں کے بارے میں اسرائیل پہلے سے تیار کیوں نہیں تھا۔
اس کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کے ایک چیف آف سٹاف کو زبردستی مستعفی ہونا پرا تھا جبکہ کئی سینیئر اہلکار بھی اپنے عہدوں سے ہٹا دیئے گئے تھے۔ انہیں واقعات کے کچھ عرصے بعد وزیر اعظم گولڈا میئر نے بھی استعفٰی دے دیا تھا۔ آج اسرائیلی فوج اور سیاسی رہنما پھر سے کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔ کئی ارکان پارلیمان اس جنگ سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جن میں حزب مخالف کے سربراہ یوسی بیلن بھی شامل ہیں۔ پروفیسر شائی فیلڈ مین، برانڈس یونیورسٹی میں مشرق وسطٰی پر سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں اور جنگ کے دوران ان کا زیادہ وقت اسرائیل ہی میں گزرا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایہود اولمرٹ کی حکومت اس جنگ سے نمٹنے کے طریقے پر شدید تنقید کی زد میں آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ’بڑے پیمانے پر عدالتی تحقیق‘ بھی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنقید اس پر نہیں ہے کہ حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں ’غیر متناسب‘ کارروائی کی گئی بلکہ جنگ کے موثر ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر کئی امور پر ہے جس میں فضائیہ کا استعمال بھی سر فہرست ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’جب ایک ہفتے کے فضائی حملوں کے بعد بھی حز ب اللہ کے راکٹ حملے نہ روکے جاسکے تو حکومت نے یہ سبق سیکھنے میں اتنی یر کیوں لگادی؟‘
’جب زمینی حملے بھی بے سود ثابت ہورہے تھے تو بڑی فوجی کارروائی کرنے میں اتنی دیر کیوں کی گئی‘۔ پھر اسرائیل کی انٹیلی جنس معلومات پر بھی سوال اٹھیں گے۔ فوج کے چیف آف سٹاف ڈین ہیلوتز کی کارکردگی بھی تجزیے کی زد میں آئے گی۔ بظاہر انٹیلی جنس کو حزب اللہ کے تمام اسلحہ کے بارے میں علم تھا تاہم جنوبی لبنان میں وہ حزب اللہ کے پیچیدہ نیٹ ورک کے بارے میں صحیح اندازہ نہ کرپائی۔ پروفیسر فیلڈ مین کا کہنا ہے کہ اب انٹیلی جنس کیسے اپنے طریقہ کار کی وضاحت کرے گی۔ اسرائیل میں حکومت نے جس طرح فوجی اور سویلین لیڈرشپ کے درمیان تعلقات رکھے، اس پر بھی تنقید ہوگی۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی بھی بظاہر یہی وجہ ہے۔ شاید ایہود اولمرت نے یہ جنگ اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنانے کے خیال سے لڑی۔ فیلڈ مین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کاروائیاں روکنے میں ناکامی کے سبب ممکن ہے کہ فوج کو واپس بلانے کے فیصلے پر اولمرت عوام کو مطمئن نہ کرسکیں۔ | اسی بارے میں لبنان:’قرارداد‘ پر صلاح مشورے 14 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی پر عمل درآمد شروع14 August, 2006 | آس پاس لبنان میں جنگ بندی پیر سے: عنان13 August, 2006 | آس پاس ’حزب اللہ اور طیارہ سازش کا تعلق‘13 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی قرارداد منظور: حملے شدید 13 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||