’حزب اللہ اور طیارہ سازش کا تعلق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور برطانیہ میں مسافر طیارے تباہ کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث لوگوں کے درمیان قدرِ مشترک اس ’نظریۂ مطلق العنانیت‘ پر یقین ہے جسے وہ پھیلانا چاہتے ہیں۔ عراق اور افغانستان میں جاری شورش پسندانہ اقدامات سے ان مشتبہ افراد کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد ایسے ’محفوظ علاقے‘ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں سے وہ دوسری قوموں پر حملے کرسکیں۔ ریڈیو پر قوم سے ہفتہ وار خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ’برطانیہ میں دہشت گردی کا منصوبہ اس بات کی یاد دہانی تھا کہ دہشت گرد اب تک ہمارے لوگوں کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔‘ بش کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جہازوں میں سوار معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کوہلاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عراق اور افغانستان میں شہریوں اور امریکی حکام پر حملے کرکے انہیں قتل کرتے ہیں۔ لبنان میں جان بوجھ کر شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور وہ اپنے مطلق العنانی نظریات دنیا بھر میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ میں دہشت گردی کا مبینہ منصوبہ، جس کے بارے میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ مشروبات کی بوتلوں میں موجود مائع دھماکہ خیز مواد کی مدد سے امریکہ جانے والے مسافر طیاروں کو تباہ کرنا تھا، اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ ہمارا مقابلہ انتہائی چالاک دہشت گردوں سے ہے جو تواتر کے ساتھ اپنی چالیں بدل رہے ہیں‘۔ امریکی حکام کے مطابق اگر مسافر طیاروں کو تباہ کرنے کی اس سازش کو بروقت بے نقاب نہیں کیا جاتا تو اس کے نتیجے میں گیارہ سمتبر کو واشنگٹن اور نیویارک پر حملوں سے بھی کہیں زیادہ تباہی ہوتی۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد سے امریکہ دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ بش کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کے خلاف دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے خفیہ اداروں کی کوششیں اور عراق اور افغانستان میں جاری فوجی آپریشن اسی جنگ کا ایک حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح اسرائیل کی لبنان کے ساتھ لڑائی بھی دشہت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ | اسی بارے میں لبنان کے لیئے امن فوج ضروری ہے:بش28 July, 2006 | آس پاس ’بم‘ فلائٹوں کے لیے بش کی معافی29 July, 2006 | آس پاس لبنان بحران اور صدر بش کا ’اوور ٹائم‘07 August, 2006 | آس پاس کیا کیا ہوا اور کیا کیا کیا گیا؟10 August, 2006 | آس پاس ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||