جنگ بندی پر عمل درآمد شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ ملیشیا کےدرمیان چونتیس روز تک جاری رہنے والی لڑائی پیر کی صبح بند ہوگئی تاہم جنگ بندی کے آغاز کے چار گھنٹے بعد ہی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک مبینہ کارکن کو ہلاک کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے مشتبہ کارکنوں کا ایک گروہ اسرائیلیوں کی جانب بڑھ رہا تھا جس پر فوجیوں نے فائرنگ کی تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس فائرنگ کے جواب میں حزب اللہ کے کارکنوں نے جوابی فائرنگ نہیں کی۔ اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل کریں گے لیکن اگر دوسرے فریق نے طاقت کا استعمال کیا تو وہ جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جنگ بندی کی قرارداد منظوری کے بعد لبنان اسرائیل کے حملوں میں شدت آگئی تھی جو آخری گھنٹوں تک جاری رہی۔جنگ بندی کے وقت سے صرف پندرہ منٹ پہلے تک اسرائیلی طیاروں نے لبنان میں حملے جاری رکھے۔ جن میں انیس شہری ہلاک ہوئے۔ ادھر حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور جنگ کے آخری روز ڈھائی سو راکٹ شمالی اسرائیل میں فائر کیئے۔ اسرائیلی حملوں سے بعلبک میں ایک مسافر وین تباہ ہوگئی جس سے آٹھ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے۔ شامی سرحد کے نزدیک ایک گاؤں پر جنگی جہازوں کی بمباری سے ایک پولیس اہلکار سمیت دس لبنانی مارے گئے جبکہ سیدون کے نزدیک ایک فلسطینی کیمپ پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ چونتیس دن جاری رہنے والی اس لڑائی میں ایک ہزار کے قریب لبنانی اور ایک سو پچپن اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ جنگ بندی سے دو گھنٹے قبل اسرائیلی طیاروں نے بیروت پر ہزاروں پرچے گرائے جن پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے پیغام دیا گیا تھا کہ شام اور ایران کی کٹھ پتلی حزب اللہ ہی لبنانیوں کی تباہی کی ذمہ دار ہے اور اگر اب اسرائیل پر حملہ ہوا تو اس کا جواب پوری قوت سے دیا جائےگا۔
جنوبی لبنان میں اگرچہ جنگ بندی کے باوجود صورتحال واضح نہیں ہے تاہم لوگوں نے اپنےگھروں کی جانب واپسی کا عمل شروع کر دیا جس کے نتیجے میں سیدون سے آگے تمام راستوں پر ٹریفک جام ہوگئی۔ اقوامِ متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری مارک براؤن کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں لبنانی فوج اور امن دستوں کو قدم جمانے میں ایک ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ ہاوئیر سولانا کے مطابق بین الاقوامی امن فوج کے چار ہزار جوان ایک ہفتے کے عرصے میں لبنان پہنچ سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فرانس، اٹلی، ملائیشیا اور انڈونیشیا لبنان میں اپنی فوج بھیجنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ زپی لیونی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملائیشیا اور انڈونیشیا کے اسراییل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم اسرائیل کو ان ممالک کی افواج کے امن دستوں میں شمولیت پر اعتراض نہیں ہے۔ اس سے پہلے لبنانی کابینہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے طریقہ کار طے نہ کر سکی اور اس کا اجلاس بغیر کسی فیصلے کے بغیر ملتوی کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ اس معاملے پر متفق نہیں ہے کہ حزب اللہ کو کیسے غیر مسلح کیا جائے۔ لبنانی کابینہ کا اجلاس کم از کم چوبیس گھنٹے کے لیےملتوی کر دیا گیا ہے۔لبنانی کابینہ میں اختلافات کے بعد لبنانی وزیر اعظم فواد سینورا کو امریکی صدر جارج بش، وزیرِخارجہ کونڈولیزا رائس، فرانس کے صدر ژاک شیراک، مصری صدر حسنی مبارک اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے فون کیئے۔ جنگ بندی کے بعد اقوامِ متحدہ کے دو امدادی قافلے سیدون سے رومیش اور طائر کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔ ان قافلوں میں چوبیس ٹرک شامل ہیں جن پر امدادی سامان لدا ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق یہ قافلے بنا اسرائیل اور حزب اللہ کی اجازت کے روانہ کیئے جا رہے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ جنگ بندی کے بعد امداد کی فراہمی کا راستہ محفوظ ہوا ہے یا نہیں۔ دریں اثناء اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان کی فضائی اور بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اقوامِ متحدہ کوئی ایسا نظام وضع نہیں کر لیتی جس سے حزب اللہ کو اسلحہ کی ترسیل روکی جا سکے۔ اسرائیلی کابینہ نے اتوار کو لبنان میں جنگ بندی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر1701 کی رسمی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ زپی لیونی نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ اگر اس قرارداد پر مکمل عمل ہوا تو یہ اسرائیل کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ادھر لبنانی وزیراعظم فواد سنیورا نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد جنوبی لبنان میں امن دستوں اور لبنانی فوج کے علاوہ کوئی مسلح گروہ نہیں رہے گا اور دریائے لیطانی سے جنوب کے علاقے کو غیر فوجی علاقہ بنا دیا جائےگا۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی واپسی تک جنگ جاری رہے گی اور اسرائیل امن فوج کی تعیناتی تک علاقے سے اپنی فوج نکالنے پر تیار نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں لبنان میں جنگ بندی پیر سے: عنان13 August, 2006 | آس پاس ’غیر مسلح کرنے کا مینڈیٹ نہیں‘13 August, 2006 | آس پاس لڑائی میں تیزی،ہیلی کاپٹر تباہ،11 فوجی ہلاک12 August, 2006 | آس پاس شدید جنگ میں سات اسرائیلی فوجی ہلاک12 August, 2006 | آس پاس جنگ بندی کی قرارداد منظور11 August, 2006 | آس پاس شام میں لبنانیوں کا گرم جوش استقبال 10 August, 2006 | آس پاس قرارداد: امریکہ اور فرانس کا اتفاق، اختلافات10 August, 2006 | آس پاس وینزویلا نےاسرائیل سے تعلقات ختم کر دیئے09 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||