BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 August, 2006, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فتح‘ پر ایران اور شام کی مبارکباد
حسن نصرا اللہ نے کہا ہے کہ یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ حزب اللہ کے چھاپہ ماروں کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں سرعام بات چیت کی جائے۔
حسن نصرا اللہ نے کہا ہے کہ یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ چھاپہ ماروں کوغیر مسلح کرنے کے بارے میں سرعام بات چیت کی جائے۔
شام اور ایران نے جنگ کو اسرائیل کی شکست قرار دیتے ہوئے حزب اللہ کو مبارکباد دی ہے۔ دونوں ممالک نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی ’گروہ‘ کو شکست ہوئی ہے۔

شام کے صدر بشر الاسد نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں ’اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی کامیابی‘ کے بعد نیا مشرق وسطیٰ وجود میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے بارے میں امریکہ کا خواب خوش فہمی میں بدل چکا ہے جبکہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے مشرق وسطٰی پر حکمرانی کرنے کا اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت پر دیئے گئے ہیں جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے جبکہ تشدد کے اکا دکا واقعات اب بھی جاری ہیں۔

شام کے صدر نے ایک ماہ پہلے لڑائی کے آغاز کے بعد پہلی بار اس کے بارے میں بیان دیتے ہوئے حزب اللہ کو ’شاندار لڑائی‘ پر مبارکباد دی اور کہا کہ بُش انتظامیہ کے واشنگٹن میں برسر اقتدار ہوتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بُش انتظامیہ دفاعی حملے پر یقین رکھتی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے مستقبل قریب یا بعید میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھتے۔

دمشق میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین نے کہا کہ شام کے صدر کی تقریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے مخالفین کے لڑائی کے نتیجے سے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

بشر الاسد نے کہا کہ عربوں کو شکست خوردہ ذہنیت رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نامہ نگار نے کہا کہ یہ جذبات پوری عرب دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے ایک ایسے منصوبے کو ناکام بنایا ہے جں کے تحت امریکہ، برطانیہ اور یہودی اس خطے پر حکمرانی کرنا چاہتے تھے۔ ایک پرجوش ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اللہ کا وعدہ پورا ہوا ہے۔ ایک طرف بدعنوان قوتیں ہیں جو جدید اسلحے سے لیس ہیں تو دوسری طرف نیک نوجوانوں کا ایک گروہ ہے‘۔

اس سے قبل اسرائیلی فوجی ذرائع نے کہا تھا کہ جنگ بندی پرعمل درآمد شروع ہونے کے بعد حزب اللہ نے کم از کم پانچ مارٹرگولے فائر کیئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ تمام کے تمام گولے جنوبی لبنان میں گرے جس سے جنگ بندی کی شرائط بظاہر متاثر نہیں ہوئیں۔

حوصلے بلند
 شام کے صدر کی تقریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے مخالفین کے لڑائی کے نتیجے سے حوصلے بلند ہوئے ہیں
بی بی سی نامہ نگار جان لین
لبنان کے وزیردفاع الیاس مُر نے کہا ہے کہ اگلے بہتّر گھنٹے میں پندرہ ہزار لبنانی فوجی جنوبی لبنان میں جانے کے لیئے تیار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوجی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیئے استعمال نہیں کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام اسرائیلی فوجی نہیں کر سکے وہ لبنانی فوج کیونکر انجام دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی فوجیوں کو اس وقت تک سرحد پر تعینات نہیں کیا جائے گا جب تک بین الاقوامی امن فوج لبنان نہیں پہنچ جاتی۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ حسن نصرا اللہ نے کہا ہے کہ یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ حزب اللہ کے چھاپہ ماروں کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں سرعام بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں پندرہ ہزار گھروں کی تعمیرومرمت کا کام فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے اور جن لوگوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں انہیں فوری طور پر گھر کی چھت فراہم کرنے کے لیئے ایک سال تک کا کرایہ مہیا کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ رات حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار پر حسن نصرا للہ کی نشری تقریر کے بعد بیروت آتش بازی سے گونج اٹھا۔ نوجوان لڑکے موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر گھروں سے باھر نکل آئے اور بیروت کے بعض حصوں میں جشن کا سا سماں دیکھنے میں آیا۔

اسرائیلی فوج لبنان کا بری، بحری اور فضائی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بقول اس کے حزب اللہ چھاپہ ماروں تک باہر سے اسلحہ نہ پہنچایا جا سکے۔

جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے لوگوں کی اپنے گھروں کو روانگی کا سلسلہ جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں گاڑیوں کے طویل قافلے دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ لبنان کی سول ڈیفنس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ لوگ ملک میں جا بجا بکھرے ہوئے اسلحے اورگولہ بارود سے ہو شیار رہیں۔ سول ڈیفنس کے مطابق پیر کے روز ایسے ہی واقعات میں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے
تھے۔

تل ابیب سے شائع ہونے والے اخبار ہارٹز کے ایک عوامی جائزے کے مطابق پچاسی فیصد اسرائیلی حزب اللہ کے خلاف جنگ کے نتائج سے مایوس ہیں جبکہ برسراقتدار قدیمہ پارٹی کے مقبولیت میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔

لبنان میں جنگ بندی
قرارداد پر اسرائیل میں گرم جوشی کا فقدان
مسلم حلقے برہم
بش کے الفاظ ’اسلامک فاشسٹ‘ پر اشتعال
کوفی عنانقرارداد کہتی کیا ہے؟
سکیورٹی کونسل کی قرارداد کا پورا متن
اسی بارے میں
غزہ: تین فلسطینی ہلاک
14 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد