’اس جنگ کی ذمہ دار حزب اللہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے مشرق وسطی میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایک بار پھر حزب اللہ کی سخت مزمت کی ہے۔ صدر بش کی یہ کوشش تھی کہ وہ اس تاثر کو بالکل ختم کردیں کہ اس لڑائی کے بعد حزب اللہ کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ صدر بش نے اپنے بیان میں حزب اللہ کو اس تمام لڑائی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، حزب اللہ نے یہ بحران شروع کیا تھا، اور حزب اللہ کو ہی اب شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ امریکی صدر نے اسرائیل اور حزب اللہ کی لڑائی کو ایک بڑی عالمی جنگ کا حصہ قرار دیا جس میں بقول انکے اصل لڑائی دہشتگردی اور آزادی کے درمیان ہے۔ امریکہ صدر کا کہنا تھا کہ لبنانی عوام کے مصائب کے ذمہ دار شام اور ایران ہیں کیونکہ وہ ہی حزب اللہ کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ ایران کی حکومت حزب اللہ کو مالی امداد، اسلحہ اور تربیت فراہم کرتی رہی ہے اور یہ بھی واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ صدر بش نے کہا کہ اگر ایران کے پاس وہ جوہری اسلحہ ہوتا جس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے تو موجودہ لڑائی کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔ ایران کے جوہری خطرے پر زور دینے کے علاوہ صدر بش نے ایران کے جمہوریت مخالف موقف پر بھی زور دیا۔ ان کے بقول ایران جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیئے مسلح گروپوں کی حمایت کر رہا ہے۔ بظاہر صدر بش اپنے اس بیان سے امریکی عوام کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ان کا مقصد اب بھی مشر ق وسطی میں جمہوریت رائج کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ جن ممالک میں وہ ایک جمہوری معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں - یعنی عراق اور لبنان -- ان ہی ممالک میں دہشت گرد کارروائیاں عروج پر ہیں۔ اسی لب و لہجے میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسرائیل کی اندھی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ جدید ترین ہتھیار صیہونیوں کو دے رہا ہے اور اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے، اس لئیے ’ہم پوچھتے ہیں کہ کیوں امریکی حکومت اس قاتل حکومت کی اندھی حمایت کرتی ہے۔‘ صدر احمدی نژاد نے حزب اللہ کو ایک مقبول عوامی تحریک کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو اپنی سر زمین کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں لبنان:’قرارداد‘ پر صلاح مشورے 14 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||