BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 August, 2006, 07:14 GMT 12:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ اسرائیلی منصوبےسےآگاہ تھا‘
اسرائیلی فضائیہ
پینٹاگون اور امریکی قومی سلامتی کونسل نے منصوبے کی اطلاع سے انکار کیا ہے
امریکی جریدے نیو یارکر کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل حِزب اللہ کے خلاف جنگ کے بارے میں بہت پہلے سے رابطےمیں تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کے لیئے واشنگٹن کا دورہ حزب اللہ کی جانب سے دو اسرائیلی فوجیوں کے اغوا سے پہلے کیا تھا جو بظاہر لبنان پر اسرائیلی بمباری کی وجہ بنی۔

تحقیقی صحافی سیمور ہرش نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنانے کے بعد بُش انتظامیہ کے اہلکاروں کو آگاہ کیا تھا۔

رپورٹ میں ذرائع کا جن کو ظاہر نہیں کیاگیا سہارا لیا گیا ہے اور اس میں کیے گئے دعووں کی امریکی حکام کی طرف سے تردید بھی اس میں شامل ہے۔ خبر میں یہ نہیں کہا گیا کہ امریکہ نے اسرائیل کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا تھا۔

سیمور ہرش پولٹزر اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور ان کی مشہور خبروں میں ابو غریب جیل میں عراقی قیدیوں کے ساتھ زیادتی اور ویتنام میں مائی لائی قتل عام شامل ہیں۔

امریکی حکومت کے ایک مشیر نے ہرش کو بتایا کہ اسرائیل نے سب سے پہلے امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی کو اعتماد میں لیا۔ وہ اس بات کی یقین دہانی چاہتے تھے کہ انہیں ان کی اور قومی سلامتی کونسل کی حمایت حاصل ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق مشیر نے ہرش کو بتایا کہ چینی کی حمایت کے بعد صدر بُش کو ساتھ ملانا زیادہ مشکل نہ تھا اور امریکی وزیر خارجہ بھی مان گئیں۔

رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کے ایک سابق اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کا فضائی جنگ کے ذریعے لبنان کے لوگوں کو حزب اللہ کے خلاف کرنے کی کوشش اس منصوبے کی نقل تھی جو امریکہ ایران کے لیئے تیار کر رہا تھا۔

سیمور ہرش نے لکھا ہے کہ امریکہ حزب اللہ کے میزائیل ختم کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کے ایران پر حملے صورت میں یہ میزائیل اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کیئے جائیں۔

پینٹاگون اور قومی سلامتی کونسل نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کی کارروائی کی پیشگی اطلاع تھی۔

اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف حملہ کرنے کا بہانہ نہیں بنایا تھا بلکہ یہ جنگ ان پر تھوپی گئی تھی۔

امریکی بحریہ کے ایک سابق اہلکار اور ملٹری ڈاٹ کام کے مدیر نے کہا کہ اس بات میں شک نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان رابطہ رہا ہوگا لیکن ہرش اس کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اخلاقاً امریکہ کو مطلع کیا ہوگا اور بُش انتظامیہ کا یہ جواب رہا ہوگا کہ انہیں پیغام مِل گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد