لبنان میں ایک اور پراسرار دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی لبنان کے شہر سیدون میں ہونے والے زبردست دھماکے میں ایک انتہائی سینئر انٹیلیجنس افسر شدید زخمی اور ان کے دو محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔ انٹیلیجنس افسر سمیر شحادہ کو اس وقت ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیئے جانے والے بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ رامیلیہ نامی گاؤں کے قریب سے گزر رہے تھے۔ کرنل شحادہ اقوام متحدہ کی جانب سے لبنان کے مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات میں شامل تھے۔ رفیق حریری کو 2005 میں ایک بم دھماکے کے ذریعے قتل کیا گیا تھا۔ قتل کا یہ واقعہ اسرائیل اور لبنان میں مخدوش فائر بندی کے چونتیس دن بعد پیش آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے حریری قتل کی تحقیقات کے سربراہ اپنی تازہ ترین رپورٹ 15 ستمبر کو پیش کرنے والے ہیں۔ ایک عرب ٹی وی کا کہنا ہے کہ کرنل شحادہ وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے سلسلے میں لبنانی سیکورٹی کے سربراہ سمیت مزید چار سابق اعلیٰ اہلکاروں کی گرفتاری کا باعث بنے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شام کے اہم اعلیٰ اہلکاروں کو ملوث بتایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ لبنان میں گرفتار کیئے جانے والے چاروں سابق اعلیٰ اہلکاروں کا شام سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔ ان میں لبنان کی عام سکیورٹی کےسابق سربراہ جمال السید بھی شامل تھے۔ لبنانی وزیراعظم کے قتل کے بعد لبنان میں شام کی موجودگی کی مخالفت مزید شدت اختیار کر گئی تھی اور آخرِ کار شامی افواج کو لبنان سے جانا پڑا تھا۔ |
اسی بارے میں حریری قتل: تحقیقی سربراہ نامزد12 January, 2006 | آس پاس ’الاسد نے حریری کو دھمکی دی‘30 December, 2005 | آس پاس حریری تحقیقات میں پورا تعاون: شام29 December, 2005 | آس پاس اقوام متحدہ: حریری رپورٹ پر بحث 13 December, 2005 | آس پاس حریری قتل رپورٹ: شام پر پھر الزام 12 December, 2005 | آس پاس حریری کا قتل، شام پر شک21 October, 2005 | آس پاس لبنان انتخابات: تناؤ کی صورتحال19 June, 2005 | آس پاس حریری: آزادانہ تفتیش کا مطالبہ25 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||