اقوام متحدہ: حریری رپورٹ پر بحث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے تفتیشکاروں کی اس رپورٹ پر بحث شروع کر دی ہے جو انہوں نے لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کی بم دھماکے میں ہلاکت کے بارے میں تیار کی ہے۔ یہ بم دھماکہ اسی سال فروری میں ہوا تھا اور میں رفیق حریری کے علاوہ دیگر بائیس افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں تفتیشکاروں کے سربراہ ڈیٹلیو میلس نے اپنی رپورٹ کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس تفتیش سے ہچککچاہٹ اور لیت و لعل کے متضاد اشارے ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اگر تفتیش میں پیش رفت کی موجودہ رفتار کو دیکھا جائے تو اسے سال دو سال میں مکمل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے۔
میلس کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے پہلے تو تعاون میں سست روی کا مظاہرہ کیا لیکن بعد میں انٹیلیجنس کے مشتبہ اہلکاروں سے ویانا میں تفتیش میں مدد کی۔ اقوام متحدہ میں لبنان کے سفیر نے اس بات پر اصرار کیا کہ تفتیش کا دائرۂ کار لبنان میں سرکردہ افراد کی حالیہ ہلاکتوں تک وسیع کیا جانا چاہیے۔ جب کہ شامی سفیر نے تفتیشکاروں کے سربراہ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک نے تعاون کی ہر ممکن کوشش کی ہے تاہم انہوں تفتیش کاروں کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اپنے نتائج کو تفتیش مکمل ہونے تک راز نہیں رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشکاروں نے انسانی حقوق کے ان بنیادی اصولوں کا بھی پاس نہیں کیا جن کے تحت مشتبہ افراد سے ایسی زبان میں لکھے گئی بیانات پر دستخط نہیں لیے جانے چاہیں جو انہیں آتی ہی نہ ہو۔ | اسی بارے میں لبنان میں سیاسی بحران سنگین 13 December, 2005 | آس پاس بیروت: شام مخالف رکن ہلاک 12 December, 2005 | آس پاس حریری قتل رپورٹ: شام پر پھر الزام 12 December, 2005 | آس پاس شام شرائط ختم کرے: امریکہ11 November, 2005 | آس پاس شام:عدم تعاون کا الزام پھرمسترد01 November, 2005 | آس پاس حریری کا قتل، شام پر شک21 October, 2005 | آس پاس ’تفتیشی رپورٹ پر کارروائی کی جائے‘22 October, 2005 | آس پاس شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں31 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||