شام:عدم تعاون کا الزام پھرمسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام نے ایک مرتبہ پھر اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم سے تعاون کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شام کی طرف سے یہ انکار سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے بعد آیا ہے جس کے مطابق اگر شام تفتیش میں غیر مشروط تعاون نہیں کرتا تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ شام کے وزیر خارجہ کے مطابق سلامتی کونسل کی قرارداد اس مفروضے پر مبنی ہے کہ شام لبنان کے مرحوم صدر رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک انکوائری کے مطابق شام اور لبنان میں وزیر خارجہ فاروق الشرعا نے کہا کہ انکوائی ٹیم بغیر کوئی ثبوت پیش کیے یہ الزام لگا رہی ہے کہ شام کے سرکاری اہلکاروں نے تفتیش کاروں کے ساتھ جھوٹ بولا اور تفتیش کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا ’کسی بھی شخص پر جس نے اس تفتیش کو شروع سے دیکھا ہے یہ واضح ہے کہ ٹیم کو شام کی طرف سے مکمل تعاون حاصل رہا ہے۔‘ سلامتی کونسل کی قراداد جس کو امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے، کے مطابق شام کو پندرہ دسمبر تک قرارداد پر عمل کرنا ہے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شام ان افراد کو گرفتار کرے جنہیں تفتیشی ٹیم نے مشتبہ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سال فروری میں لبنانی صدر رفیق حریری کے کار دھماکے میں مارے جانے کے بعد شام کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اُسےلبنان سے اپنی فوجیں نکالنا پڑی تھیں۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے رفیق حریری کی ہلاکت کی تفتیش کا اعلان ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے تفتیشی ٹیم کے مرکزی تفتیش کار ڈیٹلِومہلِس نے کہا تھا کہ شامی سرکاری اہلکاروں نے جھوٹ بولا اور تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔ | اسی بارے میں شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں31 October, 2005 | آس پاس روس: شام پر پابندیاں ناقابل قبول27 October, 2005 | آس پاس شامی وزیرداخلہ: خودکشی کی تفتیش13 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||