شامی وزیرداخلہ: خودکشی کی تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ وزیرداخلہ غازی کنعان کی بظاہر خودکشی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے دمشق میں شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ نے خودکشی کر لی ہے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ 'وزیر داخلہ بریگیڈیر جنرل غازی کنعان نے دوپہر سے کچھ دیر پہلے اپنے دفتر میں خودکشی کر اپنی موت سے کچھ گھنٹے پہلے غازی کنعان نے ریڈیو سٹیشن 'وائس آف لبنان' کو فون کر کے ان کو اپنا 'آخری بیان' دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا یہ بیان ذرائع ابلاغ اور صحافیوں کو جاری کر دیا جائے۔ اس بیان میں انہوں نے کہا کہ 'میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت اور باہمی احترام پر مبنی رہا ہے۔ ہم نے پورے خلوص و عزت کے ساتھ لبنان کے مفادات کے لیے کام کیا تھا'۔ پچھلے ماہ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ان سے لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی تھی۔ حریری کا قتل نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں اس قاتلانہ بم حملے میں شام کے خفیہ اداروں کے ملوث بتائے جانے کا امکان ہے۔ شام نے اس سال سخت بین الاقوامی دباؤ کے بعد لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلائی تھیں۔ خفیہ ادارے کے سربراہ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران لبنان کے تمام سینئر اہلکار سیاسی اور سلامتی امور پر غازی کنعان کو رپورٹ دیا کرتے تھے۔ غازی کنعان سنہ دو ہزار دو میں لبنان سے شام واپس آئے اور سنہ دو ہزار چار میں ان کو کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔ جولائی میں امریکی حکام نے ان کے امریکہ میں اثاثے یہ کہہ کر منجمد کیے تھے کہ غازی کنعان لبنان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||