شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل شام پر لبنان کے سابق وزیرِاعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر پابندیاں لگا سکتی ہے۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ ایک ایسی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں کہ جس کے نتیجے میں شام پر پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ شام نے ان ممالک کے اس اقدام کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔ قرارداد کے مسودے میں شام پر سفری پابندیاں لگانے اور قتل میں ملوث مشتبہ افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس مسودے میں شام سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان افراد کو گرفتار کیا جائے جن کی نشاندہی قتل کی تحقیق کرنے والے افراد نے کی ہے اور گواہوں اور مشتبہ افراد سے شام سے باہر کسی مقام پر تفتیش کی اجازت دی جائے۔ قرارداد میں شام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر اس نے تعاون نہیں کیا تو اس پر اقتصادی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ امریکی سفارت کاروں کا کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یہ قرارداد کچھ ممالک کی جانب سے مخالفت کے باوجود کامیاب ہو جائے گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ روس اور چین اس قراردار پر ووٹنگ میں حصہ لینے سے احتراز کریں گے۔ اس قرارداد کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی کونسل کے 15 میں سے 9 ممبران اس کی حمایت کریں اور پانچ مستقل ممبران میں سے کوئی اسے ویٹو بھی نہ کرے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے نمائندے جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ’مجھے ویٹو کا امکان نظر نہیں آتا‘۔ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کی جانے والی رفیق حریری کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کے شائع ہونے کے دو ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں شام اور لبنان کے اعلٰی حکام کو اس قتل میں ملوث قرار دیا گیا ہے اور شام پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔ اس برس کے آغاز میں بیروت میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں رفیق حریری کے قتل کے بعد شام کو سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے نتیجے میں اسے لبنان سے اپنا افواج بھی واپس بلانی پڑی تھیں۔ | اسی بارے میں روس: شام پر پابندیاں ناقابل قبول27 October, 2005 | آس پاس ’تفتیشی رپورٹ پر کارروائی کی جائے‘22 October, 2005 | آس پاس حریری کا قتل، شام پر شک21 October, 2005 | آس پاس شامی وزیرداخلہ: خودکشی کی تفتیش13 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||